بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات غزہ کی تباہی کے باعث جوش و جذبہ مفقود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بیت لحم میں اس بار کرسمس کا دن ایسے غمزدگی کے ماحول میں آرہا ہے کہ کرسمس کے سلسلے میں کہیں کوئی میلے کا سماں دکھتا ہے نہ ہی کوئی چراغاں کیا گیا ہے جیسا کہ روایتی طور پر نظر آتا ہے اور کرسمس ٹری کے اونچے اونچے درخت سجائے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی جائے ولادت کے لیے مشہور اس شہر میں غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے کرسمس کی خوشیاں ماند نظر آرہی ہیں۔

بیت لحم میں میلوں کے سماں والی سرگرمیاں منسوخ کردی گئی ہیں جن میں روایتی طور پر ہزاروں سیاح شرکت کرکے اپنی کرسمس کی خوشی کو دوبالا کرتے ہیں۔ غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے کرسمس کے موقع پر آنے والے سیاح بھی اس بار خال خال ہی نظر آتے ہیں جس سے سیاحتی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

بیت لحم کے مئیر ھنا ھانیہ کا کہنا ہے کہ جب غزہ کے فلسطینی مصاعب میں گھڑے ہوئے ہیں تو ایسے موقع پر ہم کیسے خوشیاں منا سکتے ہیں۔ مئیر نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہم غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے واقعات کو دیکھ رہے ہیں اور مغربی کنارے میں فوج نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس لیے ہم رواں سال کرسمس کی خوشیاں منانے سے قاصر ہیں۔

7 اکتوبر کے بعد سے بیت لحم اور دوسرے فلسطینی قصبوں تک رسائی بہت مشکل کردیا گیا ہے۔ گاڑیوں پر سوار لوگوں کی ایک لمبی قطار کو جگہ جگہ فوجی چیک پوائنٹس پر فوجی کے معائنے کے لیے رکنا پڑتا ہے۔ اور ہر طرف لمبی قطاریں انتظار میں کھڑی رہتی ہے۔

ان پابندیوں کی وجہ بہت سے فلسطینیوں کو اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ وہ کام کے لیے بھی اسرائیل میں داخل نہیں ہوسکتے۔

شہر کے مئیر نے اس ساری صورتحال کا فلسطینی پٹی پر ہونے والے معاشی اثرات کا بھی ذکر کیا ہے جہاں جنگ کے آغاز کے بعد سے سیاحتی شعبے میں بدترین مندی نظر آرہی ہے۔ وزارت سیاحت رولا مایہ کے مطابق فلسطینی سیاحتی شعبہ یومیہ ڈھائی ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔

بہت سی ائیر لائنز کی اسرائیل کے لیے فلائٹ منسوخی کے باعث بیت لحم میں 70 سے زائد ہوٹل کو بند ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے 6 ہزار سے زائد سیاحتی شعبے سے منسلک افراد بیروزگاری کا شکار ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں