خلیجی ریاستوں کا جنگ زدہ یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے زیرِ قیادت امن کوششوں کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب سمیت خلیجی عرب ریاستوں نے پیر کے روز یمن کے متحارب فریقین کی طرف سے جنگ بندی کی طرف قدم اٹھانے اور اقوامِ متحدہ کی قیادت میں امن مذاکرات میں شامل ہونے کے نئے وعدوں کا خیرمقدم کیا۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈ برگ کے اعلان کردہ وعدوں نے ایک خونریز تنازعہ کو ختم کرنے کی تازہ ترین کوشش کی نشاندہی کی جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے اور دنیا کا ایک بدترین انسانی المیہ پیدا ہوا۔

جزیرہ نما عرب کا غریب ترین ملک 2014 میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے صنعا پر قبضے کے بعد سے جنگ کی لپیٹ میں ہے جس سے اگلے سال حکومت کی حمایت میں عرب قیادت میں فوجی مداخلت شروع ہو گئی۔

اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے اپریل 2022 میں دشمنی میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ جنگ بندی کی میعاد گزشتہ سال اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی البتہ لڑائی کافی حد تک رکی ہوئی ہے۔

سعودی عرب نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ہفتے کے روز اقوامِ متحدہ کے "امن کے راستے کی حمایت کے لیے روڈ میپ" کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس کی وزارت خارجہ نے یمن کے متحارب فریقین کو "مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور دیرپا سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے" حوصلہ افرائی کی۔

معاون ثالث عمان نے بھی اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ "جلد از جلد ایک معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔"

قطر نے امن کے لیے اقوامِ متحدہ، سعودی عرب اور عمان کا شکریہ ادا کیا اور متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ ایک معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں تیز کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں