اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا ہے کہ یمنی حوثی بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی صورت مں جنگ بندی معاہدے پر عمل کریں گے۔ یو این ایلچی نے یہ بات ہفتے کے روز کہی ہے۔
یو این ایلچی ان دنوں سعودی عرب اور اومان میں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد انہوں نے کہا وہ ' ہر اس فریق کی اس رائے اور آمادگی کا خیر مقدم کرتے ہیں جن کے مطابق وہ جنگ بندی معاہدے کی پابندی کریں گے، نیز جنگ بندی کے از سر نو شروع کرنے میں اپنا سیاسی اثر رسوخ استعمال کریں گے۔'
ایلچی نے کہا وہ ' جنگ بندی کے روڈ میپ کی تیاری کے لیے تمام فریقوں سے رابطے میں رہیں گے تاکہ تمام کی حمایت اور تعاون فراہم رہے اور جنگ بندی معاہدے پر عمل ممکن بنایا جا سکے۔'
یمنی حوثی 2014 سے یمن میں ایک اہم فریق ثابت ہوئے ہیں کہ انہوں نے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی مدد سے جنگ بندی ممکن ہو گئی۔ یہ جنگ بندی معاہدہ اپریل 2022 سے باہمی دشمنی میں کمی کا ذریعہ بن گیا تاہم یہ جنگ بندی پچھلے سال اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود جنگ ابھی تک رکی ہوئی ہے۔
واضح رہے یمنی حوثیوں نے سات اکتوبر سے شروع اسرائیلی حماس جنگ میں ہزاروں شہریوں کی شہادتوں اور لاکھوں کی نقل مکانی کے باوجود اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ اس صورت حال میں حوثیوں نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے اہداف کو ڈرون حملوں کے لیے پسند کر لیا ہے۔