یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے آج اتوار کو یمن میں جنگ بندی کے حصول اور حوثی گروپ کی جانب سے تعطل کے شکار سیاسی عمل کو بحال کرنے کے لیے سعودی عرب کی قابل تعریف کوششوں کی تعریف کی۔ یاد رہے سیاسی عمل ستمبر 2014 میں قومی اتفاق رائے کے خلاف بغاوت کے بعد سے معطل ہوگیا ہے۔
رشاد العلیمی نے زور دیا کہ کونسل اور حکومت ان تمام اقدامات کو انجام دے رہی ہے جو حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں امن کے حصول، ریاستی اداروں کو بحال کرنے اور شہریوں کے حالات زندگی بہتر بنانے میں مفید ہیں۔
رشاد العلیمی نے یہ بات مصر کے سفیر احمد فاروق کے ساتھ ملاقات کے دوران کی۔ ملاقات میں یمن کی صورت حال میں ہونے والی پیش رفت اور اقوام متحدہ کی کوششوں کے نتائج پر مبنی ایک جامع سیاسی عمل شروع کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور سلطنت عمان کی کوششوں سے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ٹرمز آف ریفرنس پر اتفاق ہو گیا ہے۔
یمنی حکومت نے جنگ کے خاتمے اور یمنی بحران کے حل کے لیے روڈ میپ تک پہنچنے کی کوششوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایلچی کے جاری کردہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔
یمنی وزارت خارجہ کی طرف سے ہفتے کی شام ایک بیان میں خلیجی اقدام اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار کے مطابق یمن میں بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے حکومت کے مثبت معاملات کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ معاملات جامع قومی ڈائیلاگ کانفرنس، سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے نتائج اور یمنی عوام کی امنگوں اور امیدوں کو پورا کرنے کی تین شرائط کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
یمنی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور سلطنت عمان کے بھائیوں کی طرف سے تصفیہ کو آگے بڑھانے اور سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔