بصری معذوری کے حامل نوجوان 'سعودی پکاسو' کی 50 تجریدی فن پاروں کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

16 سالہ مصور مشال الشعیبی جنہیں بصری چیلنجز کا سامنا ہے نے 50 تجریدی پینٹنگز کی ایک سیریز تیار کی ہے جس پر انہیں مقامی تخلیق کاروں نے "سعودی پکاسو" کا خطاط دیا ہے۔

الشعیبی کی سولو نمائش "دی سینگ آئی" کے عنوان سے دارالحکومت کی احلام گیلری میں منعقد ہو رہی ہے۔

ابھرتے ہوئے فنکار کو حسی پروسیسنگ کا عارضہ لاحق ہے جس کی وجہ سے اn کے لیے چیزوں کو قریب سے دیکھنا مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کافی موٹے چشمے پہنتے ہیں۔

وہ اس وقت بحرین کے بیکن اسکول میں نویں جماعت کے طالبِ علم ہیں جن کو سیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کے کام کے اعتراف میں الشعیبی کو 20 دسمبر کو تنظیم کے چیئرمین شہزادہ سلطان بن سلمان نے معذور بچوں کی ایسوسی ایشن کا سفیر مقرر کیا تھا۔

ان کے کام کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ ایسوسی ایشن کے بچوں کے ڈرائنگ پروگرام کو مالی فائدہ پہنچائے گا۔

انہوں نے 9 سال کی عمر میں ڈرائنگ اور پینٹنگ شروع کی اور اب وہ ایک قابل فنکار بن چکے ہیں۔

الشعیبی کی تخلیقی صلاحیتوں سے متأثر ہو کر ان کی خالہ مصور شیدن التویجری نے انہیں اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

"میں نے مشال کو کبھی متأثر نہیں کیا۔ اس کا اپنا ایک انداز ہے جو اس کے پہلے سولو کے بعد سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ میں بس رنگوں کو ملانے میں اس کی رہنمائی اور کینوس پر رنگوں کو صاف رکھنے کے لیے اس کے برش صاف کرتی ہوں۔"

وہ اپنے بھتیجے کو "قطعی باصلاحیت" قرار دیتی ہیں اور جب بھی وہ کوئی نئی پینٹنگ شروع کرے تو وہ انہیں اپنی صلاحیتوں سے حیران کرنے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا۔

"مشال ہر طرح سے فنکارانہ ہے۔ اس میں موسیقی سننے کے لیے بہت اچھی سماعت ہے۔ اس کے انداز کا ایک منفرد احساس ہے۔ جب آرٹ کی بات آتی ہے تو وہ بہت جستجو رکھتا ہے۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے، آرٹ گیلریوں اور عجائب گھروں کا دورہ کرنا پسند کرتا ہے۔"

اپنے ہنر کو تیار کرنے کے لیے التویجری نے کہا کہ انہوں نے الشعیبی کو سولو نمائش کے لیے 30 دنوں میں تقریباً 40 فن پارے تخلیق کرنے کا چیلنج دیا جبکہ انہوں نے 50 فن پارے بنا دیئے۔

الشعیبی نے کہا: "جس چیز نے مجھے آرٹ ورک کرنے کی ترغیب دی ہے وہ آنکھیں ہیں کیونکہ میں چشمہ پہنتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ دنیا ان (چشموں) کے بغیر آنکھیں دیکھے۔ میرے خیال میں یہ جسم کا اہم ترین حصہ ہے۔"

ان کا تخلیقی عمل علاج کی ایک شکل ہے۔ "جب بھی میں آرٹ کرتا ہوں، یہ مجھے پر سکون کرتا اور اپنی جگہ پر محسوس کرواتا ہے۔"

ان کی والدہ نورا التویجری اپنے بیٹے کی لگن پر فخر کا اظہار کرتی ہیں۔ "جب پینٹنگ کی بات آتی ہے تو وہ بہت مستقل مزاج اور انتہائی لگن کا حامل ہے۔ وہ خود پر یقین رکھتا اور تمام مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے۔ وہ فن کی صورت میں اظہار کرتا ہے اور یہ اسے زیادہ بالغ انسان بناتا ہے۔"

"تجریدی آرٹ اس کا کام ہے۔ معروف سعودی فنکاروں کے ردِعمل انتہائی مثبت رہے ہیں فنکاروں نے انہیں ’اس دور کے سعودی پکاسو‘ کا نام دیا۔ اور سب نے اس بات پر تبصرہ کیا کہ کس طرح ان کی پینٹنگز ان کی عمر سے بہت زیادہ ہیں۔"

احلام گیلری کی بانی ڈاکٹر احلام الشدوخی نے کہا: "صرف 16 سال کی عمر میں وہ احلام گیلری میں سولو نمائش کرنے والے کم عمر ترین فنکار ہیں۔ جب ہم نے مشال سے ملاقات کی اور اس کے تخلیقی طریقوں اور اس کے فن پاروں کے تازہ ترین مجموعے کی نمائش کرنے کی خواہش کے بارے میں جانا تو محسوس ہوا کہ ایک باصلاحیت ابھرتے ہوئے فنکار کے طور پر اس کی حمایت کرنا ضروری تھا۔"

گیلری میں الشعیبی کی نمائش ابتدائی طور پر 21 دسمبر کو ختم ہونے والی تھی لیکن زیادہ طلب کی وجہ سے اسے 28 دسمبر تک بڑھا دیا گیا۔

الشدوخی نے مزید کہا، "مشال کی نمائش 'دی سیئنگ آئی' بہت سی وجوہات کی بناء پر بڑی کامیابی تھی۔ یہ مجموعہ گذشتہ تین سالوں میں بنایا گیا تھا اور یہ فنکار کی شخصیت اور کردار کی ایک خوبصورت نمائش ہے۔ مشال کو اس کے الہامی ذرائع کے بارے میں بات سن کر اس کا جذبہ اور اس کے فن سے محبت کا اظہار ہوا۔ اس کے پاس تقریباً ہر فن پارے کے لیے ایک کہانی ہے۔"

انہوں نے نوٹ کیا کہ الشعیبی کے آرٹ ورک کا معیار جو ان کی زندگی میں اپنے یا لوگوں کے پورٹریٹ پر مرکوز ہے، کافی بلند ہے۔ موضوع کے معاملات کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے اور خالص جذبات سے بھرپور ہے۔

احلام گیلری ایک تجارتی ادارہ ہے جو مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں کے ساتھ مشغول ہونے کے لیے پرعزم ہے۔

الشعیبی کے فن پارے دریافت کرنے کے لیے ان کا انسٹاگرام ملاحظہ کریں: @artbigmish

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں