حوثیوں کا امریکی بحری جہاز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں ایک امریکی بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعلان کیا تھا کہ اس نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کا 27 واں حملہ پسپا کیا ہے۔

"ابتدائی جواب"

آج بدھ کو یمنی حوثی گروپ نے بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ فوجی آپریشن کے نفاذ کی تصدیق کی جس نے ایک امریکی جہاز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بحری جہاز اسرائیل کو مدد فراہم کر رہا تھا۔

حوثی ملیشیا کے عسکری ترجمان یحییٰ ساری کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ آپریشن بحیرہ احمر میں ان کی افواج کو حالیہ امریکی حملوں کے "ابتدائی ردعمل" کے طور پر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد غزہ میں جاری اسرائیلی حملے کو روکنے کے لیے اسرائیلی مدد کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانا اور اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

’یو ایس‘ سینٹرل کمانڈ نے آج بدھ کی صبح کہا تھا کہ حوثیوں نے منگل کی شام بین الاقوامی شپنگ لین پر ایک بڑا حملہ کیا۔ انہوں نے اس حملے کو "پیچیدہ" قرار دیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ اس کے جہاز نے "گارڈین آف پراسپیرٹی" اتحادی افواج کی مدد سے حوثی بحری حملے کا مقابلہ کرنے میں ایک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کے علاوہ 18 ڈرونز اور دو اینٹی شپ کروز میزائلوں کو مار گرایا۔

انہوں نے اس حملے کو پیچیدہ اور بڑا بھی قرار دیا۔

فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے اپنے دعوے کے مطابق اسرائیل کی طرف جانے والے یا اسرائیل سے تعلق رکھنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف درجنوں حملے کیے ہیں۔

گذشتہ 19 نومبر 2023 سے عالمی سطح پر اس اہم آبی گزرگاہ پر درجنوں حوثی حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں