بحیرہ احمر کے راستے، قطر نے 'ایل این جی 'کی برآمدات روک دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قطر نے بحیرہ احمر میں بڑھی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنی 'ایل این جی ' کی ترسیل بحیرہ احمر کے راستے روک دی ہے۔ قطر ' ایل این جی ' کی پیداوار کے حوالے دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ اس میں ' ایل این جی ' کی پیداوار جاری رہنے کے باوجود ترسیل کی برآمد کو روک دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قطر نے پچھلے بر س کے اواخر میں تیل سے بھرے کم از کم چار آئل ٹینکروں کی نقل و حمل کو روک دیا ہے۔ یہ صورت حال جمعہ کی رات یمن میں حوثیوں کے درجنوں مراکز پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں علاقے میں پہلے سے پائی جانے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ قطر کے چار ٹینکر بحیرہ احمر سے ہونے والی نقل و حمل کا کم از کم 15 فیصد حصہ تھے۔ جسے ہفتے کے آخر میں قطر نے روکا ہے کہ بحر احمر کے حالات خراب ہیں۔

'ایل ایس سی جی' کے ڈیٹا کے مطابق قطری جہازوں الغاریہ ،الحویلہ اور النعمان نے راس لفان سے ' ایل این جی ' گیس لوڈ کی تھی ۔ وہ نہر سویز کے راستے اپنے سفر روانہ ہوئے مگر اومان کے ساحل کے نزدیک ان جہازوں کے پہنچنے پر انہیں 14 جنوری کو روک دیا گیا۔

اسی دوران ایک اور قطری جہاز الریکات کے بارے میں معلوم ہوا کہ الریکات 13 جنوری کو بحیرہ احمر کے راستے واپس قطر آرہا تھا، اسے بھی روک دیا گیا تھا۔

قطر کے ان امور اور فیصلوں سے متعلق ایک ذریعے کا کہنا ہے 'یہ وقفہ سیکیورٹی کے امور میں ہدایات کے انتظار کے لیے ہے، اگر بحیرہ احمر سے نقل و حرکت غیر محفوظ ہی رہی تو قطر اپنے جہازوں کو براستہ 'کیپ آف گڈ ہوپ ' آمدورفت کے لیے ہدایات دے گا۔

واضح رہے بحیرہ احمر کے مقابلے میں ' کیپ آف گڈ ہوپ ' کا سمندری راستہ قدرے طویل ہے۔ اس لیے جہازران کمپنوں کو مقابلتاً زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ' کیپ گڈ ہوپ' کا سمندری راستہ افریقہ کے جنوب سے گذرتا ہے۔

ادھر قطر انرجی کے بین الاقوامی میڈیا آفس نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے نہ ہی پوچھنے پر جواب دیا ہے۔ تاہم یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ قطر نے اپنی ' ایل این جی ' کی پیداوار کم نہیں کی ہے۔

قطر دنیا ' ایل این جی ' کا دوسرا بڑا برآمدہ کنندہ ملک ہے۔ اس نے 2023 کے دوران 75 ملین میٹرک ٹن ایندھن کی ایکسپورٹ کیا ہے۔ اس میں سے 14 ملین ٹن یورپ کو بھیجا جبکہ 56 ملین ٹن سے زیادہ ایشیائی ملکوں کو فروخت کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں