غزہ میں زیرِ حراست فلسطینیوں سے اسرائیل کے ناروا سلوک کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک اہلکار نے جمعہ کے روز غزہ میں نظربند فلسطینیوں سے اسرائیل کا ناروا سلوک بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے آدمیوں سے ملاقات کی ہے جنہیں ہفتوں تک قید رکھا گیا، زدوکوب کیا گیا اور آنکھوں پر پٹی باندھی گئی جن میں سے کچھ کو لنگوٹ پہنے ہوئے رہا کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندہ اجیت سنگھے نے انکلیو میں رہائی پانے والے قیدیوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے غزہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں کو بتایا، "یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے 30 سے 55 دنوں کے درمیان نامعلوم مقامات پر حراست میں رکھا تھا۔"

"ایسے آدمیوں کے بارے میں اطلاعات ہیں جنہیں بعد میں رہا کر دیا جاتا ہے لیکن اس سرد موسم میں بغیر کسی مناسب لباس کے صرف لنگوٹ میں۔"

7 اکتوبر کو حماس کی سرحد پار دراندازی کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملہ کر دیا تھا۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں 24,400 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ کا بیان ہے کہ غزہ میں پھنسے 2.3 ملین افراد میں سے ایک چوتھائی بھوکے مر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے 16 دسمبر کو کہا کہ اسے اسرائیلی فوج کے شمالی غزہ میں فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر حراست میں رکھنے، ناروا سلوک اور جبری گمشدگی کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

او ایچ سی ایچ آر نے کہا، بین الاقوامی انسانی قانون کا تقاضا ہے کہ شہریوں کو صرف ضروری حفاظتی وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا جائے اور قیدیوں کے ساتھ تشدد اور دیگر ناروا سلوک سختی سے ممنوع ہے۔

دسمبر میں غزہ میں قیدیوں کی زیر جامے تک لباس اتارنے کی تصاویر نے فلسطینی، عرب اور مسلمان حکام میں غم و غصے پیدا کیا۔

اقوامِ متحدہ کے حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس وقت کہا تھا کہ اسرائیل کی شہریوں کو "اجتماعی سزا" اور ان کا "غیر قانونی زبردستی انخلاء" جنگی جرائم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں