امریکہ سے جنگ، ایران خوفزدہ نہیں ہے: سربراہ پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی پاسداران انقلاب کور کے سربراہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری گرما گرمی کے ماحول میں انتباہ کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے خطرات کو جواب کے بغیر نہیں جانے دیا جائے گا۔ بدھ کے روز اس بارے میں بات کرتے ہوئے پاسداران چیف نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے بھی خوفزدہ نہیں ہے۔

پاسداران چیف حسین سالامی کا کہنا تھا ان دنوں ہمیں بعض امریکی حکام کی طرف سے کچھ دھمکیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ ہم انہیں خبردار کرنا چاہتے ہیں ہم کسی خطرے کو نظر انداز نہیں کریں گے بلکہ ہر خطرے کا جواب دیں گے، ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن جنگ سے خوفزدہ بھی نہیں ہیں۔

پاسداران چیف حسین سالامی کے ان خیالات کو ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے۔

جنرل سالامی کے یہ ریمارکس امریکی صدر جوبائیڈن کے ان خیالات کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے ایک روز قبل کہا تھا 'ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اردن میں اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کا جواب دیں گے۔'

امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ وہ ایران کو ان تین فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کیونکہ ایران ان حملوں کے لیے اسلحہ فراہم کرتا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ جنگجو گروپوں کے حملوں کے پیچھے ایران ہے۔ تاہم ایران نے ایسے کسی بھی ڈرون حملے کا حصہ ہونے کی تردید کی ہے جس کے نتیجے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کا بڑا سبب غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ ہے جو سات اکتوبر سے مسلسل چل رہی ہے۔ امریکہ پوری طرح اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے جبکہ ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ اسرائیل اور امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے عراق اور شام میں اب تک 165 ایسے حملے کیے ہیں جن کا نشانہ امریکی فوجی اڈے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں