فلسطین اسرائیل تنازع

حماس نے معاہدے کی تکمیل کے لیے سات اکتوبرکے حملے کے شرکاء کی رہائی کا مطالبہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی دھڑوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حماس نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں اور اسیران کے تبادلے کے معاہدے سے متعلق مجوزہ کاغذ (پیرس پیپر) کی قطعی منظوری کے ساتھ کوئی جواب نہیں دیا، جس پر بدھ کو قاہرہ میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایک ذریعے نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "اگرچہ حماس نے تین مراحل میں معاہدے پر بتدریج عمل درآمد پر اتفاق کیا، لیکن اس نے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے علاقوں سے متعلق تفصیلات کا مطالبہ کیا اور سرحد کی طرف انخلاء کی درخواست کی"۔

ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے"ایک شرط یہ عاید کی ہے کہ اسرائیل7 اکتوبرحملے میں گرفتار افراد کو رہا کرے۔ البتہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں طویل عرصے سے قید فلسطینیوں اور زیادہ عرصے کی سزائیں پانے والوں کی رہائی کا مطالبہ نہیں کرے گی‘‘۔

قاہرہ میں ذرائع نے تصدیق کی کہ حماس اور اسلامی جہاد ں نے مصری اور قطری ثالثوں کو "مشترکہ طور پر اور متفقہ موقف کے ساتھ بیان کردہ حل اور نکات" سے آگاہ کرنے پر اتفاق کیا۔

گذشتہ اتوار کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مصر، قطر، امریکہ اور اسرائیل نے حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات مکمل کرنے کے لیے شرکت کی۔

منگل کو حماس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کو پیرس اجلاس کی تجویز موصول ہوئی ہے۔ وہ اس کا مطالعہ کرنے اور اس پر اپنا ردعمل پیش کرنے کے کام کررہی ہے۔

اس نے زور دے کر کہا کہ حماس کسی بھی سنجیدہ اور عملی اقدام پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ بہ شرطیکہ غزہ جنگ روکنے کے ساتھ بے گھر فلسطینیوں کو ان کے گھروں میں واپس آنے کی اجازت دی جائے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی نشریاتی کارپوریشن نے بدھ کے روز کہا کہ حماس نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ایک ممکنہ معاہدے کے تحت اسرائیلی جیلوں سے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملوں میں شریک تمام شرکاء کی رہائی کی درخواست کی ہے جس کے تحت غزہ کی پٹی میں اسرائیلی نظر بندوں کو رہا کیا جائے گا۔

حماس نے شرط رکھی ہے کہ تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے سات اکتوبر کے حملے کے تمام گرفتار کنندگان کو رہا کیا جائے۔

اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا کہ قطر اور مصر کی جانب سے پیرس اجلاس میں یہ درخواست پہلے ہی اٹھائی جا چکی ہے اور پیرس سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والی ملاقاتوں میں اسے دوبارہ دہرایا گیا۔

کمیشن نے کہا کہ اسرائیل میں اس وقت حماس کے مطالبے کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے اور ابھی تک اسے منظور یا مسترد کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن حکام نے کہا ہے کہ یہ "ایک معاہدے تک پہنچنے کا ایک موقع ہے، لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے"۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ غزہ میں زیر حراست افراد کی واپسی کے لیے ایک "حقیقی کوشش" کی جا رہی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس طرح کے اقدام کو کس طرح نافذ کیا جائے گا۔

قیدیوں کے اہل خانہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہ ایک حقیقی کوشش ہے"۔ ان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ کیسے ہوگا، لیکن ان دنوں، ان لمحات اور ان مخصوص اوقات میں کوششیں کی جا رہی ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں