برطانیہ کے کیمرون کا دورۂ لبنان، اسرائیل کے ساتھ سرحد پر پرسکون رہنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

میقاتی کے دفتر نے بتایا کہ برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کو بیروت میں لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میقاتی کے ساتھ گفتگو میں لبنان اسرائیل سرحد پر امن کی طرف واپسی کی اپیل کی۔

7 اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے سرحد پر اسرائیل اور حماس کے اتحادی لبنانی مزاحمت کار گروپ حزب اللہ کے درمیان تقریباً روزانہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا کہ کیمرون اور میقاتی نے "جنوبی لبنان میں امن بحال کرنے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی حل پر بھی تبادلۂ خیال کیا"۔

یکے بعد دیگرے بیروت کا دورہ کرنے والے مغربی وزراء میں کیمرون تازہ ترین ہیں جنہیں یہ خدشہ ہے کہ غزہ کی جنگ شرقِ اوسط کے ارد گرد ایرانی اتحادیوں پر مشتمل ایک وسیع تنازعہ پیدا کر سکتی ہے۔

ان کی کوششوں کا ایک بڑا مرکز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو تقویت دینا ہے جس نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 کی جنگ ختم کی تھی۔

قرارداد 1701 میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لبنانی ریاستی سیکورٹی فورسز اور اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے علاوہ تمام مسلح اہلکار سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر (20 میل) کے فاصلے پر دریائے لیطانی کے شمال کی طرف پسپا ہو جائیں۔

میقاتی نے کیمرون کے ساتھ "اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 کو نافذ کرنے کے طریقوں" پر تبادلۂ خیال کیا۔

میقاتی نے کہا، "لبنان خطے میں پرامن حل کی حمایت کرتا ہے،" اور مزید کہا: "لبنان بین الاقوامی قراردادوں خاص طور پر قرارداد 1701 کے نفاذ کی حمایت کرتا ہے۔"

اگرچہ 2006 سے سرحدی علاقے میں حزب اللہ کی کوئی واضح فوجی موجودگی نہیں ہے لیکن یہ گروپ اب بھی جنوب کے بڑے حصوں پر اپنا تسلط رکھتا ہے جہاں اس نے سرنگیں اور ٹھکانے بنا رکھے ہیں جہاں سے اس نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

حزب اللہ نے پہلے سفارتی حل کی توثیق کرنے پر آمادگی کا عندیہ دیا تھا لیکن اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جنگ ختم کرنے کے بعد ہی۔

بعد ازاں کیمرون نے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے ملاقات کی جو حزب اللہ کے اتحادی ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ حزب اللہ کے سینئر عہدیدار نبیل کاؤک نے بدھ کے روز کہا کہ اس گروپ نے "اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے جواب میں" اپنی کارروائیاں "تیز" کر دی تھیں۔

ان کے تبصرے اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے پیر کے روز بیان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیلی فوجی لبنانی سرحد کے قریب "بہت جلد کارروائی کریں گے"۔

اے ایف پی کے ایک اعداد و شمار کے مطابق تقریباً چار ماہ کی سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ میں لبنان میں 210 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر حزب اللہ کے مزاحمت کار تھے لیکن 25 سے زیادہ شہری بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ سرحد کی اسرائیلی جانب نو فوجی اور چھ شہری مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں