ایران کی شام اور عراق میں امریکی حملوں کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے شام اور عراق میں مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پرگذشتہ شب کیے گئے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے شام اور عراق میں ایران نواز عسکری گروپوں کے 85 ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

آج ہفتے کے روز اپنے بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی حملے عراق اور شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اس حملے کوخطرناک اور سٹریٹجک امریکی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا باعث بنے گی۔

ادھر شام کی وزارت دفاع اور بغداد میں حکومت کی طرف سے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

کم از کم 16 ہلاک

عراقی حکومت کے ترجمان باسم العوادی نے اعلان کیا کہ شام کے ساتھ سرحد کے قریب ایران نواز عراقی دھڑوں کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے والے امریکی فضائی حملوں میں عام شہریوں سمیت کم از کم 16 افراد مارے گئے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے جارحانہ کارروائی اور عراق اور خطے کی سلامتی کو تباہی کے دھانے پر لانے کا باعث بنے گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ "امریکہ نے اس جارحیت کے ارتکاب کے لیے بغداد کے ساتھ پیشگی رابطہ کاری کےحوالے سے جھوٹا بیان دیا ہے‘‘۔

’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے پہلے اطلاع دی تھی کہ حملوں میں 18 افراد ہلاک ہوئے، جن میں مسلح دھڑوں کے 15 جنگجو اور تین عام شہری شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں