چار سے آٹھ فروری کے دوران مملکت کے دارالحکومت ریاض میں 'ورلڈ ڈیفنس شو' کے انعقاد کے دوران 'العربیہ' کو معلوم ہوا ہے کہ بری، بحری اور فضائی دفاعی افواج کے لیے ٹیکنالوجی بیسڈ ترقی و مضبوطی کا رجحان غالب رہا ہے۔ مملکت میں اس رجحان میں اضافے کی وجہ خطے میں جاری کشیدگی اور بےچینی کا ماحول بن رہا ہے۔
ایک تاریخی اور وسیع جنگ جو اس وقت اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری ہے پورے مشرق وسطیٰ کی طرف پھیلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس دوران سعودی عرب میں دفاعی کمپنیاں بھی تیزی سے فروغ پذیر ہیں۔ بین الاقوامی حکومتیں اس بارے میں خبردار کرتی ہوئی سنی جاتی ہیں کہ مسلح تصادم مزید پھیل سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بین الاقوامی معاشی حالات اور لاجسٹکس پر اثر پڑے گا۔
ایران ایک طویل عرصے سے سعودی عرب کا حریف سمجھا جاتا ہے اور اس حریفانہ کشاکش کی بنیاد مذہبی اور سلامتی سے متعلق امور رہے ہیں لیکن چین کے توسط سے مارچ 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بالعموم تحسین کی گئی ہے۔
تاہم ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپ آج بھی پورے مشرق وسطیٰ میں متحرک ہے۔ جن میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی اور غزہ کی فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس اسرائیل سے نبرد آزما ہے۔ اس ماحول میں دفاعی کمپنیاں سعودی عرب کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ خطے کی غیریقینی صورتحال ہے تو دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مملکت نے اپنی مالیاتی پالسییوں میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھول دیے ہیں۔
ریاض میں پانچ دن تک جاری رہنے والے 'ورلڈ ڈیفنس شو' میں بین الاقوامی اسلحہ کمپنیوں نے جہاں اپنے اسلحہ کی نمائش اور مارکیٹنگ کا ماحول جاری رکھا۔ وہیں سعودی عرب کی طرف سے بھی اپنی فوجی قوت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ان کمپنیوں سے معلومات حاصل کرنے اور ان کی جدت کے بارے میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔ اس موقع پر مملکت نے 6 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کے ان اسلحہ کمپنیوں کو آرڈر بھی دیے۔
بحری جہازوں پر بحیرہ احمر میں ایک طرف حوثی حملے کر رہے ہیں۔ تاکہ حماس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرسکیں اور دوسری طرف ایرانی حمایت یافتہ یہ عسکری گروپ خطے میں ڈرون حملے بھی کر رہا ہے۔ یہ ڈرون حملے خطے کے ملکوں کو اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی فوجی تنصیبات اور اسلحہ کو اپنے علاقوں میں مستحکم کریں۔
دفاعی ٹھیکیدار، اسلحہ اور سیکورٹی سے متعلق کمپنیاں اور دوسرے 'سٹیک ہولڈرز' نے العربیہ کو بتایا ہے کہ علاقے میں دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تیزی سی سرگرمی ہو رہی ہے۔
بعداز جنگ سے جنگ سے پہلے تک
برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ دنیا بعد از جنگ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جو اگلی جنگ سے پہلے کا دور ہوگا۔
حالات کی خرابی کو تسلیم کیا جانا بدقسمتی سے دنیا کے کئی ملکوں میں ان کی ذہنیت کے طور پر موجود ہے۔ 'دی میزائل کمپنی' کے گروپ ڈائریکٹر برائے برآمدات و فروخت فلورینٹ ڈیولیوکس نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا 'وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت تحفظ کے احساس کی ضرورت ہے۔' اسی کی وجہ سے دفاعی ٹیکنالوجی کی خریداری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خریداروں کی طرف سے آرڈرز ملنے میں تیزی ہے۔'
انھوں نے مزید کہا 'مشرق وسطیٰ کے لیے ان کے میزائلوں کی ایکسپورٹ غیر روایتی طور پر بڑھی ہے۔ مجموعی طور پر ملنے والے آرڈرز کی مالیت کا تقریباً 50 فیصد حصہ مشرق وسطیٰ سے متعلق ہے۔ یہ ایک سال میں تقریباً 2 ارب ڈالر کی رقم بنتی ہے۔ سال 2022 میں ہماری کمپنی کو مجموعی طور پر 10 ارب ڈالرز کے آرڈرز ملے تھے۔' ڈائریکٹر نے کہا '2023 تک وہ آرڈرز سارے پورے نہ ہو سکے لیکن ابھی بھی آرڈرز کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے۔'
واضح رہے 'ایم بی ڈی اے' 2001 میں برطانوی 'بی اے ای سسٹمز' اور فرانس ایئربس کے علاوہ اٹلی لیونارڈو کے انضمام سے تشکیل پائی تھی۔ یہ کمپنی زمینی افواج کے علاوہ بحری اور فضائی افواج کے لیے میزائل تیار کرتی ہے۔ برطانوی اور مغربی ملکوں کی افواج وسیع پیمانے پر 'ایم بی ڈی اے' کے اسلحہ پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ پچھلے دس سالوں سے 'ایم بی ڈی اے' نے قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی موجودگی کو بڑھالیا ہے۔
غیر معمولی مواقع
بحریہ سے متعلق ایک گروپ کے سینیئر ذمہ دار جس کا تعلق فرانس کی ایک اسلحہ ساز کمپنی سے ہے نے کہا 'مشرق وسطیٰ اس وقت اسلحہ بیچنے کے حوالے سے غیرمعمولی مواقع فراہم کر رہا ہے۔' فرانسیسی کمپنی کے یہ ذمہ دار ریاض میں منعقدہ 'ورلڈ ڈیفنس شو' کے دوران 'العربیہ' سے بات کر رہے تھے۔
پیٹرائس پیرا نے کہا مشرق وسطیٰ مارکیٹنگ کے مواقع کے حوالے سے زبردست ہے۔ نہ صرف اس لیے کہ یہاں تصادم اور بحران کی کیفیت رہتی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ خطہ اپنی بحریہ کو مضبوط تر اور جدید تر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
واضح رہے یہ گروپ فرانس کی بحریہ کے لیے بھی ایک بڑے اسلحہ سپلائر کا درجہ رکھتا ہے۔ پیا نے کہا فرانس کی بحریہ آج کل بحیرہ احمر میں امریکہ کے ساتھ مل کر حوثیوں کے حملے کو روک رہی ہے اور ان کی فرانسیسی کمپنی کا تیار کردہ اسلحہ بحیرہ احمر میں بروئے کار ہے۔
ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے جدید ترین ٹیکناولجی فراہم کرنے والی کمپنی 'مارس' (MARSS) ان دنوں مختلف افواج کی طرف سے اپنی اس ٹیکنالوجی کے لیے بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھ رہی ہے۔ یہ بات کمپنی کے سعودی آفس کے لیے مینیجنگ ڈائریکٹر اینڈریو فوربس نے 'العربیہ' کو بتائی۔
ان کا کہنا تھا 'جس طرح ڈرونز کی وجہ سے خطرات بڑھے ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں اپنی دفاع کو مضبوط رکھیں۔' اس سلسلے میں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا ' کئی ملکوں کی افواج اس ڈرون شکن ٹیکنالوجی کے لیے آرہی ہیں۔
انڈریو فوربس نے کہا ان کی کمپنی کا بنایا ہوا ڈرون شکن اسلحہ قیمت کے اعتبار سے مہنگا نہیں ہے۔ مگر فضائی دفاع میں بہت کارآمد ہے۔' فوربس نے کہا 'ہم اسے 'نیڈار کور' کہتے ہیں۔ جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے۔'
واضح رہے کہ 4 سے 8 فروری تک جاری رہنے والے اس 'ورلڈ ڈیفنس شو' میں ڈرون بنانے والی اور ڈرون شکن اسلحہ بنانے والی کمپنیوں نے اپنی اپنی دکانیں سجائیں۔ 'ایم بی ڈی اے' گروپ نے پائلٹ کے بغیر چلنے والے ڈرون کو بھی نمائش کے موقع پر ایک ماڈل کے طور پر رکھا۔ یہ ڈرون فضائی خطرات کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
خیال رہے ڈرون شکن میزائل کی لاگت اور پائیداری کا فیصلہ ان ممالک میں جانچ کے بعد کیا جاتا ہے جہاں دفاعی بجٹ عوام کے ٹیکسوں سے پورا کیا جاتا ہے۔
ڈرون بنانے میں مہارت رکھنے والی جنوبی افریقہ کی کمپنی 'ملکور' کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہمیں سعودی حکام کی طرف سے طیارے بنانے کا اجازت نامہ ملا ہے۔'