اسرائیلی حکومت نے متفقہ طور پر کسی بھی فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے کی مخالفت کرنے والی قرارداد کی منظوری دی تھی۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کی تصدیق کی تھی اور اس حوالے سے حکومت کو ایک تجویز پیش کی تھی۔ اسی تجویز پر یہ ووٹنگ کی گئی ہے۔
نیتن یاہو نے اتوار کو قبل ازیں کہا تھا کہ حکومت فلسطینی ریاست کے یکطرفہ اعلان کی اسرائیل کی مخالفت سے متعلق ایک "وضاحتی قرارداد" پر ووٹ دے گی۔ نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں کہا کہ یہ قدم اسرائیل پر فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر مسلط کرنے کی کوشش کے بارے میں عالمی برادری میں تازہ ترین افواہوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
یاھو نے کہا کہ سرکاری بیان اس بات کی عکاسی کرے گا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ مستقل تصفیہ کے حوالے سے واضح بین الاقوامی احکامات کو مسترد کرتا ہے۔ اس طرح کا انتظام دونوں فریقوں کے درمیان بغیر کسی پیشگی شرط کے براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہی طے پا سکتا ہے۔
یاد رہے میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اپنی شرکت کے دوران ہفتہ کو امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ آگے بڑھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا تھا جو اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ انہوں نے اگلے چند ماہ کے دوران بحرانوں کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے لیے عرب ممالک کی قیادت میں حقیقی کوششیں ہو رہی ہیں۔
یہ اس وقت ہوا جب نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کر دیا تھا اور ان کا سخت موقف ان کے دفتر سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جاری ہونے والے بیان میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر بھی تبصرہ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ فلسطینی ریاست کے قیام کا منصوبہ پیش کر رہا ہے۔ انھوں نے جمعرات کو کہا یہ فلسطینیوں میں تحائف کی تقسیم کی بات کرنے کا صحیح وقت نہیں ہے۔