اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے دعوے کی حمایت کرنے والے رکن کنیسٹ کوبے دخل کرنے ناکام کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے قومی مذہبی اتحاد کے ارکان پیر کے روز ایک انتہائی بائیں بازو کے کنیسٹ ممبر کی رکنیت منسوخ کرانے میں اس وقت ناکام رہے جب اس حوالے سے انہیں ضروری اکثریت حاصل نہ ہوسکی۔ اس رکن کنیسٹ نے

کیونکہ ان کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگانے والے مقدمے کی حمایت کی تھی۔

کنیسٹ کے 120 میں سے 85 ارکان نے مکمل اجلاس میں عوفر کسیو کی رکنیت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا مگر پانچ ووٹوں کی کمی کی وجہ سے اس کی رکنیت کی منسوخی ناکام ہوگئی۔ کسی بھی رکن کی پارلیمنٹ کی رکنیت کی منسوخی کے لیے ایوان کے 90 ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔

پارلیمنٹ کے ایک موجودہ رُکن کی رکنیت ختم کرنے کے لیے غیرمعمولی ووٹ اسرائیل میں اس غصے کی عکاسی کرتا ہے جو جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر کیے گئے مقدمے کے بعد پیدا ہوا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حماس کے خاتمے کے لیے چلائی جانے والی مہم نسل کشی کے مترادف ہے۔

عوفر کاسیو جس کی کمیونسٹ پارٹی ڈیموکریٹک فرنٹ فار پیس اینڈ ایکویلیٹی بائیں بازو کی عرب موومنٹ فار چینج پارٹی کے ساتھ مشترکہ اتحا میں حزب اختلاف کی صفوں میں بیٹھی ہے نے اسرائیل کے خلاف الزامات کی حمایت کرتے ہوئے ایک کھلے خط پر دستخط کیے لیکن ان الزامات کی تردید کی کہ وہ حماس کی حمایت کرتے ہیں۔

کنیسٹ کے بیان کے مطابق کسیو نے ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں کہا کہ "یہ مواخذے کی درخواست ایک صریح جھوٹ پر مبنی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں حماس کی مسلح جدوجہد کی حمایت کرتا ہوں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں حکومت کے دعووں کو لفظی طور پر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں"۔

نسل کشی کا معاملہ کیا ہے؟

غزہ پر اسرائیلی حملوں میں تقریباً 30,000 افراد مارے جا چکے۔اسرائیل نے یہ جنگ اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب شروع تھی جس میں 1200 اسرائیلی ہلال اور 250 کے قریب یرغمال بنائے گئے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں کو محدود کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہا ہے، لیکن ہلاکتوں کی تعداد نے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے قریبی اتحادیوں کو بھی بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں نے تل ابیب کی حمایت پر مشکل میں ڈال دیا۔

تاہم اسرائیل کے اندر فوجی کارروائیوں کی حمایت زیادہ ہے کیونکہ زیادہ تر اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ اگر موقع ملا تو حماس 7 اکتوبر کے حملے کو دہرائے گی۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ان عوفر کسیو کی رکنیت کی منسوخی کی حمایت نہ کرنے والے ارکان کی مذمت کی اور کہا کہ "کوئی بھی شخص جو دہشت گردی کی حمایت کرنے والے اور اسرائیل کے خلاف جنگ اکسانے والے کنیسٹ کے رکن کو چھوڑ دیتا ہے، وہ اپنا راستہ بھول گیا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں