لبنان اور شام کی سرحد کے قریب اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے دو ارکان ہلاک: جنگی نگران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک جنگی نگران نے بتایا کہ لبنان کی سرحد کے قریب اتوار کی صبح شام میں ایک ٹرک پر اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے دو ارکان مارے گئے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ "اسرائیل نے شام اور لبنان کی سرحد کے قریب ایک سویلین ٹرک کو میزائل سے نشانہ بنایا۔"

شام میں ذرائع کے نیٹ ورک پر انحصار کرنے والے برطانیہ میں قائم آبزرویٹری نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں "حزب اللہ کے کم از کم دو ارکان ہلاک ہو گئے۔"

حزب اللہ نے بعد میں الگ الگ بیانات میں اعلان کیا کہ اس کے دو ارکان "یروشلم جانے والے راستے میں شہید ہوئے"۔ یہ جملہ اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ارکان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ دونوں شام میں آج صبح مارے گئے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے اس حملے کی اطلاع نہیں دی۔

2011 میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں شام کی خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے شام میں سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایران نواز فورسز کے خلاف ہیں جن میں حزب اللہ اور شامی فوج شامل ہے۔

اسرائیل-حماس جنگ کے دوران حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق بدھ کو دمشق کے رہائشی محلے پر اسرائیلی حملے میں تین ایران نواز مزاحمت کار، ایک شامی اور دو غیر ملکی مارے گئے۔

10 فروری کو آبزرویٹری نے دمشق کے مغرب میں ایک عمارت پر اسرائیلی حملے کی اطلاع دی جس میں ایران نواز ملیشیا کے تین افراد مارے گئے۔

سات اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حزب اللہ نے شام میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے 16 ارکان کی موت کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے 3 فروری کو اعلان کیا کہ اس نے "زمین اور فضا سے حزب اللہ کے ایسے 50 سے زیادہ اہداف پر حملہ کیا ہے جو پورے شام میں پھیل گئے ہیں۔"

اسرائیل شاذ و نادر ہی انفرادی حملوں پر تبصرہ کرتا ہے لیکن بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ ایران کو شام میں اپنی موجودگی بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں