مجھے گھڑ سواری کی محبت اپنے والد اور دادا سے وراثت میں ملی: سعودی کپ کا فاتح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ دو دنوں کے دوران سعودی ہارس ٹرینر حمد آل رشید نے 2024ء سعودی کپ فار ہارسز جیتنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ہنگامہ برپا کر دیا۔

گھوڑ سواری کے میدان میں منعقدہ کپ کی تقریب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شرکت کی اور حمد نے ولی عہد کے ہاتھوں کپ وصول کیا۔

حمد آل راشد نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ " یہ جیت پوری قوم کی جیت اور خوشی ہے۔ یہ کپ سعودی قوم کا ہی رہے گا۔ یہ ایک سعودی کپ اور کامیابی ہے جسے محفوظ رکھا گیا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے ہماری عزت افزائی کی۔ میں ان کی موجودگی کو بیان نہیں کرسکتا۔ یہ اس فتح پر فخر کے لمحات ہیں‘‘۔

حماد الرشید کی تاجپوشی کے دوران
حماد الرشید کی تاجپوشی کے دوران

دوستانہ مکالمہ

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے تاج پوشی کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ دوستانہ گفتگو میں اپنے جذبات اور سعودی عوام کے جذبات اور کپ جیتنے کے بارے میں بات کی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے ولی عہد کو بتایا کہ یہ کپ سب سے مہنگا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے ولی عہد سے کہا تھا کہ فٹ بال ان کے لیے عالمی معیار کے کھلاڑی لائے اور دنیا کی نظریں ہم پر لگ گئیں۔ اونٹ کے لوگوں کے لیے انہوں نے سعودی عرب کے تمام خطوں میں ان کے لیے میدان بنائے۔ اب ولی عہد ہمارے لیےگھڑ سواری کا سب سے بڑا کپ لانے کا ذریعہ بنے‘‘۔

صبر، استقامت اور سنجیدگی

آل رشید نے انکشاف کیا کہ اسے گھڑ سواری اپنے والد اور دادا سے وراثت میں ملی۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کو سعودی عرب میں تجربہ کار تربیت دینے والوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ گھوڑوں کے میدان میں کسی بھی مقابلے کا اثاثہ ہیں۔ انہوں نے شہزادوں کے گھوڑوں کے اصطبل کی نگرانی کی۔

وزیر کھیل کے ساتھ
وزیر کھیل کے ساتھ

حمد آل رشید نے وضاحت کی کہ "میری پیدائش کے بعد پوری زندگی گھوڑوں کے درمیان گذری۔ میں ان کے ساتھ رہ رہا ہوں۔ گھڑ سواری کی تربیت حاصل کر رہا ہوں۔ میں نے گھڑ سواری کی تربیت کے دوران بہت سی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں کنگ عبدالعزیز کپ، کنگ عبداللہ کپ، کنگ خالد کپ، کنگ سلمان کپ اور کراؤن پرنس کپ دو بار حاصل کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں