الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوج میں خدمات انجام دینی چاہئیں: اسرائیلی وزیرِ دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے الٹرا آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹی کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ کے دوران فوجی خدمات میں بھرتی ہوں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں زیادہ تر شہریوں کے لیے لازمی فوجی خدمات ہیں، یہ طویل عرصے سے ایک تقسیم انگیز سیاسی مسئلہ رہا ہے جس کے حل کے بارے میں بات کرتے ہوئے گیلنٹ نے کہا، "ہم سب کو بوجھ اٹھانا ہوگا۔"

چونکہ اسرائیل 1948 میں قائم ہوا تھا تو یہودی مرد جو یشیوا (آرتھوڈوکس یہودی تعلیمی ادارہ) میں کل وقتی تورات کا علم حاصل کرتے ہیں، انہیں 26 سال کی عمر تک فوجی خدمات سے سالانہ التوا دیا جاتا ہے اور اس وقت وہ مستثنیٰ ہو جاتے ہیں۔

لیکن حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد اس استثنیٰ کے بارے میں عشروں پرانی بحث نے ایک نئی عجلت اختیار کر لی ہے۔

بدھ کے روز گیلنٹ نے استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکمران اتحاد میں مرکزی وزراء اس کی توثیق کرتے ہیں تو وہ اس سلسلے میں قانون سازی کی حمایت کریں گے۔

گیلنٹ نے بدھ کی شام صحافیوں کو بتایا، "ہمارے فعال فوجیوں کے لیے فوجی خدمات میں توسیع اور ارکانِ مخصوصہ کے لیے مخصوص خدمات میں طوالت کی فوری ضرورت ہے۔"

""یہ انتخاب کی بات نہیں ہے۔ ہمیں اپنے وطن کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، "ایک مسودہ (قانون) کے لیے متفقہ فریم ورک تک پہنچنا ممکن اور اہم ہے حتیٰ کہ الٹرا آرتھوڈوکس کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے حصے کے لیے بھی جو پہلے سے ہی شہری کوششوں میں شریک ہے۔"

گیلنٹ کے تبصروں نے ایک ایسے وقت میں اسرائیل میں سیاسی بحران کے نئے خدشات پیدا کر دیئے ہیں جب ان کا ملک غزہ میں حماس کے خلاف لڑ رہا ہے۔

الٹرا آرتھوڈوکس یشیوا طلباء کو دیئے جانے والے استثنیٰ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ عشروں کے دوران کمیونٹی کی آبادی بڑھ گئی ہے۔

اس سے بڑے پیمانے پر اسرائیلی معاشرے میں ناراضگی کو تقویت ملی ہے۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد حماس کے خلاف اپنی مہنگی جنگ شروع کرتے ہوئے 300,000 سے زیادہ فوجی ارکانِ مخصوصہ کو ڈیٹی پر بلا لیا۔

گیلنٹ نے نیتن یاہو سے "تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشترکہ عمل کی قیادت کرنے اور مسودہ قانون کے معاملے پر ضروری معاہدات طے کرنے" کا مطالبہ کیا۔

گیلنٹ نے کہا قانون کو تمام جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، "تمام اتحادی جماعتوں سے معاہدے کے بغیر دفاعی اسٹیبلشمنٹ جس کا میں سربراہ ہوں، قانون پیش نہیں کرے گی۔"

کابینہ کے وزیر بینی گینٹز نے ان کے خیالات کا خیرمقدم کیا جو خود ایک سابق وزیرِ دفاع ہیں جو جنگ شروع ہونے کے بعد نیتن یاہو کے ہنگامی اتحاد میں شامل ہوئے تھے۔

اس معاملے میں تعطل نیتن یاہو کے الٹرا آرتھوڈوکس اور مذہبی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

گیلنٹ کے تبصروں پر اسرائیل کے وزیر برائے ثقافتی ورثہ اور نیتن یاہو کی حکومت میں یہودی طاقت کے دھڑے کے رکن امیچائی ایلیاہو نے تنقید کی۔

ایلیاہو نے فوجی ریڈیو کو بتایا، "زبردستی ایسا قانون بنانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا، "اس وقت میں اسرائیل اور ملک کے عوام کے اتحاد کو حکومت کے گرنے پر ترجیح دیتا ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں