اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے میں 3,500 نئےآبادکاری گھرتعمیرکرنے کےمنصوبے میں پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزراء بیزالیل سموٹریچ اور اورٹ سٹروک کے بیانات کے مطابق اسرائیلی آبادکاری کی منصوبہ بندی کرنے والے ایک ادارے نے یروشلم کے قریب مغربی کنارے کی بستیوں میں 3,500 نئے مکانات کے لیے اجازت نامہ دے دیا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ یہ مکانات معالیہ ادومیم، کیدار اور افرات کی اسرائیلی بستیوں میں تعمیر ہونے کی توقع ہے جو یروشلم کے قریب ہیں۔

کیدار اور معالیہ ادومیم میں مجوزہ مکانات عوامی ان پٹ کے مرحلے پر ہیں – ایجنسی کے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ عوام کے لیے ان پٹ جمع کروانے کا وقت ہوتا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق افرات میں مکانات کو حتمی منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے کہا کہ نئی طے شدہ بستیوں سے مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے منظور شدہ 18,515 گھروں کی ریکارڈ تعداد میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے بدھ کے روز ایکس پر لکھا، "دشمن ہمیں نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم اس سرزمین پر تعمیر جاری رکھیں گے۔"

سموٹریچ مغربی کنارے میں آباد کاری کی منصوبہ بندی کی انچارج سول انتظامیہ کی اعلیٰ منصوبہ بندی کمیٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر برائے قومی مشن اورٹ سٹروک نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سموٹریچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "ہم مل کر آبادکاری کو فروغ دینا جاری رکھیں گے۔"

انہوں نے ایکس پر کہا، "یوش میں تقریباً 3,500 اضافی یونٹ! ہم نے وعدہ کیا - ہم فراہم کرتے ہیں۔"

مقبوضہ مغربی کنارہ ان علاقوں کا حصہ ہے جن پر اسرائیل نے 1967 کی شرقِ اوسط جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اس علاقے میں ریاست کا درجہ چاہتے ہیں۔

زیادہ تر عالمی رہنما ان بستیوں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں لیکن اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے اور اسے حفاظتی حصار کے طور پر بیان کرتے ہوئے اس بات سے اختلاف کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے بستیوں کو فروغ دیا ہے جس سے ملک کا ایک اہم اتحادی امریکہ ناراض ہے جو حماس کے ساتھ جاری جنگ میں تل ابیب کا سب سے بڑا حمایتی بھی ہے۔

24 فروری کو امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا واشنگٹن مغربی کنارے کی بستیوں کو بین الاقوامی قانون سے متصادم سمجھتا ہے اور امریکی مؤقف پر واپس آ گیا جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے الٹ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں