سوئٹزر لینڈ : یہودی پر چاقو سے حملے پر یہود دشمنی کا مقدمہ قائم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے پانچ ماہ کے دوران 30717 فلسطینیوں کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کیے جانے کا ٹوٹل سامنے آنے کے روز سوئٹزر لینڈ سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ ایک یہودی کو چاقو سے زخمی کرنے کا واقعہ پیش آنے کی بنیاد پر یہود مخالفت کا مقدمہ چلایا جائے۔

یہ مطالبہ سوئٹزر لینڈ کی یہودی کمیونٹی کے لیڈرنے ایک یہودی کو چھرا گھوپنے کے بعد کیا ہے۔ یہ چاقو مارنے کا واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا تھا مگر یہودی لیڈر کی طرف سے یہ مطالبہ بدھ کے روز سامنے آیا ہے۔ سوئس حکام نے اس واقعے میں ملوث مبینہ نوجوان کو داعش سے منسلک بتایا گیا ہے۔

یہودی رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آور کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جانی چاہیے۔ بتایا گیا ہے کہ 50 سالہ آرتھو ڈاکس یہودی کو چاقو لگنے سے کافی زیادہ زخم آیا اور وہ شدید زخمی ہے۔

اس واقعے پر اہنے بیان میں یہودیوں کی انٹر کمیونٹی کوآرڈینیشن برائے انسداد یہود مخالفت ' سی آئی سی اے ڈی' کے رہنما جوہانے گرفنکیل نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس بارے میں قومی سطح پر آواز نہیں اٹھائی گئی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آگاہی کا کس قدر فقدان پایا جاتا ہے۔

جوہانے کے مطابق 'اس وجہ سے ہم اس چاقو مارنے کی کارروائی کے خلاف زیادہ ٹھوس اقدام کی توقع کرتے ہیں۔ نیز صدر سے توقع کرتے ہیں کہ تمام گروپوں کا مشترکہ ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اس یہودی لیڈر نے کہا اسرائیل اور حماس کی جنگ کے دوران یہ حملہ ایک وقتی رد عمل ہے۔ جیسا کہ حالیہ برسوں میں یہود مخالف کارروائیاں سوئٹزر لینڈ میں بڑھ گئی ہیں۔ غزہ کی جنگ کی وجہ سے یہ اضافہ 68 فیصد تک چلا گیا ہے۔'

جوہانے نے کہا ' ضرورت اس امر کی ہے تعلیمی اداروں اورعوامی مقامات پر اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم پر سرمایہ لگایا جائے اور یہود دشمنی کے بارے میں تعلیم دی جائے۔

واضح رہے سوئس پراسیکیوٹر کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں تیونس سے تعلق رکھنےوالے 15 سالہ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ اس پر الزام لگا یا گیا ہے کہ اس نے ایک ویڈیو میں یہودیوں کو دھمکی تھی اور خود کو داعش کا وفادار بتایا تھا۔

دوسری جانب مغربی ممالک کے علاوہ امریکہ و دیگر ملکوں میں بھی سات اکتوبر 2023 کے بعد یہود مخالف اور اسلام دشمنی پر مبنی واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں