فلسطین اسرائیل تنازع

جنگ بندی کا امکان کم ہوتے دیکھ کر امریکہ کی فضا سے امدادی اشیا گرانے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے جمعرات کے روز غزہ میں مزید امدادی سامان ہوائی جہاز سے گرایا ہے۔ اب کی بار یہ امداد 40 ہزار کھانوں پر مشتل تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اردن کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ اسرائیل کی طرف سے مصر میں ثالثوں کے زیر قیادت ہونے والے جنگ بندی مذاکرات کا بائیکاٹ کیا گیا اور پیش رفت رک گئی ہے۔ اب امریکہ کو جنگ بندی کی امید کم ہوتی نظر آرہی ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے ' ایکس ' پر لکھا ہے 'اردنی ائیر فورس کے ساتھ مل کر سہ پہر تین بج کر بیس منٹ پر غزہ کے لوگوں کو ضروری اشیا کی ترسیل کی گئی ہے۔ یہ خوراک گرانے کا اہتمام شمالی غزہ میں کیا گیا ہے۔ '

سنٹرل کمانڈ نے یہ آپریشن انسانی بنیادوں پر مشترکہ کوششوں سے 7 مارچ کو کیا ہے۔ واضح رہے شمالی غزہ اس وقت سب سے زیادہ قحط کی زد میں ہے۔ اسرائیل نے 23 جنوری سے اس علاقے میں ہر قسم کی خوراک کی ترسیل روک رکھی ہے۔

امریکہ نے تقریباً ایک ہفتہ پہلے 38000 کھانے غزہ میں اپنے سی 130 طیارے کی مدد سے گرائے تھے۔ اب یہ دوسرا موقع ہے ۔ اس سے پہلے اردن، فرانس، برطانیہ و دیگر ممالک نے بھی اسی طرح کی کوششوں کے ذریعے خوراک اور ادویات ہوائی جہازوں سے نیچے گرایا تھیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے جہازوں کے ذریعے یہ انتہائی ناکافی امداد پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ خوراک پہنچانے کے لیے غزہ کے زمینی راستے کھولے جائیں اور اس حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق جن امریکی اہلکاروں نے اس خوراک گرانے کے آپریشن میں حصہ لیا ہے وہ فضا سے سامان گرانے کی غیر معمولی مہارت رکھنے والے اہلکار ہیں۔ اقوام متحدہ بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ غزہ میں قحط دستک دے رہا ہے۔ انسانی جانیں خطرے میں ہیں۔ تاہم اسرائیل رکاوٹیں کھولنے کو تیار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں