فلسطین اسرائیل تنازع

نیتن یاھو نے حماس کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کو ’غیرحقیقی‘ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو حماس کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کے مطالبات کو "غیر حقیقی" قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

قبل ازیں حماس نے کہا تھا کہ وہ ثالث ممالک مصر اور قطر کے ذریعے جنگ بندی کا ایک جامع پروگرام پیش کرے گی۔

وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر گینڈل مین نے نیتن یاہو کے دفتر کے حوالے سے بتایا کہ جنگی کونسل اور منی وزارتی کونسل برائے سلامتی امور کو آج جمعہ کو اس معاملے پر بریفنگ دی جائے گی۔

حماس کے مطالبات کیا ہیں؟

گزشتہ روز اپنے بیان میں حماس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مصری اور قطری ثالثوں کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے ایک جامع تجویز پیش کی ہے جس میں جنگ بندی کی مدت 6 ہفتوں تک ہو سکتی ہے۔ اس میں قیدیوں کی رہائی، غزہ میں زیر حراست 40 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے میں فلسطینی قیدی جن کی تعداد 400 ہو سکتی ہے کی رہائی کی تجویز شامل ہے۔ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل کے علاوہ بے گھر فلسطینیوں کی ان کے گھروں کو واپسی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلاء شامل ہے۔

جنوبی غزہ میں بے گھر افراد (اے ایف پی)
جنوبی غزہ میں بے گھر افراد (اے ایف پی)

اگرچہ یہ مطالبہ حماس کے لیے اولین ترجیح کی نمائندگی کرتا ہے، لیکن ایک ہی وقت میں اسے مذاکرات کے اہم نکات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

پیش رفت کی علامت

تاہم اسرائیلی حکام نے کہا کہ امریکی، قطری اور مصری تجویز پر حماس کا ردعمل، جس کا وہ ہفتوں سے انتظار کر رہے تھے پیش رفت کی علامت ہے اور اس سے تفصیلی معاہدے پر مزید سنجیدہ مذاکرات کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حماس کا ردعمل نسبتاً مثبت تھا اور اس میں پہلی بار فلسطینی قیدیوں کی تعداد شامل ہے جس کا حماس ہر قسم کے قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے جنہیں معاہدے کے پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی طرف سے مانگے گئے قیدیوں کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے لیکن بعد میں اس سے زیادہ سنجیدہ انداز میں بات چیت کی جا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کچھ سینیر اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ تل ابیب کو حالیہ دنوں میں ثالثوں کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں جو حماس کی قیادت میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس سے کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔

غزہ میں زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کا مظاہرہ
غزہ میں زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کا مظاہرہ

ثالثی کی کوششیں

حماس کا وفد 7 مارچ کو قطری- مصری بینر تلے کئی دنوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد قاہرہ سے روانہ ہوا تاہم اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

مصر امریکہ اور قطرگذشتہ جنوری سے جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں تاہم غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں