رفح آگ کے دہانے پر، نیتن یاہو نے فوجی آپریشن کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معاملے کی سنگینی کے بارے میں تمام بین الاقوامی انتباہات کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ نیتن یاھو نے رفح میں فوجی کارروائیوں کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

دفتر نے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ وزیر اعظم نے رفح آپریشن کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ فوج وہاں سے آبادی کو نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بے گھر ہوکر رفح میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ دفتر نے حماس کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ قیدیوں کے حوالے سے حماس کے عزائم اب بھی غیر حقیقی ہیں۔

یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ایک اسرائیلی وفد کابینہ کے اجلاس کے بعد دوحہ روانہ ہو گا تاکہ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کی جا سکے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو کے دفتر نے گزشتہ فروری میں انکشاف کیا تھا کہ اس نے فوج کو رفح کو خالی کرنے اور حماس کی چار بٹالین کو تباہ کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ علاوہ ازیں فلسطینی ایوان صدر نے جمعہ کے روز جنوبی غزہ کے شہر رفح میں فوجی آپریشن کے نتائج سے خبردار کیا اور امریکی انتظامیہ اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ ایوان صدر رفح میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے اسرائیلی حکومت کے فیصلے کو ایک نئے قتل عام اور نقل مکانی کے جرائم کی تکمیل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ فلسطینی ایوان صدر نے اس کو "ریڈ لائن " قرار دیتے ہوئے نقل مکانی کی کوششوں کو واضح طور پر مسترد کردیا۔ اسرائیل امریکہ اور بین الاقوامی انتباہات کے باوجود رفح میں فوجی آپریشن پر اصرار کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں