تحریک فتح کی انقلابی کونسل کے رکن اور ترجمان جمال نزال نے کہا ہے کہ فتح چاہتی ہے کہ حماس حکومت کو غزہ میں فلسطینیوں کو ریلیف فراہم کرنے کا موقع فراہم کرے۔ فتح کے ترجمان نے العربیہ اور الحدث کو مزید بتایا کہ حماس کو فلسطینی عوام کے مفادات کو اپنے مفادات سے بالا تر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حماس غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی موجودگی کو مسترد کرتی ہے جب کہ عالمی برادری غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی موجودگی کو قبول کر رہی ہے۔
نئی فلسطینی حکومت
خیال رہے سابق وزیر اعظم محمد اشتیہ کی جگہ نئے فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ کو مقرر کیا گیا ہے۔ اشتیہ نے فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے امریکی مطالبات کے دوران 20 دن سے بھی کم عرصہ قبل استعفیٰ دے دیا تھا۔
محمد مصطفی کو ایک بہت بڑے انتظامی اور سفارتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غزہ کے بڑے علاقوں کو ملبے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کی 23 لاکھ کی آباد میں سے زیادہ تر بے گھر ہے اور انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اوسلو معاہدے کے نام سے جانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت تین دہائیاں قبل قائم کی گئی فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر محدود حکمرانی کرتی آ رہی ہے۔
غزہ کی انتظامیہ
لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد فلسطینی اتھارٹی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے پٹی کے انتظام میں اس کی شرکت کی سخت مخالفت کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی پر محمود عباس کی قیادت میں فتح کا کنٹرول ہے۔ مغربی کنارے کو چلانے والی اتھارٹی اور غزہ کو چلانے والی حماس کے درمیان طویل عرصہ سے کشیدگی جاری ہے۔