جنگ بندی کے لیے اسرائیلی فوج کے جامع انخلا کے موقف پر قائم ہیں : اسماعیل ھنیہ
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ حماس جنگ بندی کے لیے اپنے موقف پر پوری طرح قائم ہے۔ اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا کے بغیر کوئی جنگ بندی نہیں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ یوم القدس کے سلسلے میں اپنی ایک تقریر کے دوران کیا ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے کہا ' ہم آج بھی جنگ بندی کے سلسلے میں اپنی شرائط اور موقف پر قائم ہیں۔ ہمارا واضح اور شروع سے موقف ہے کہ مستقل جنگ بندی کی جائے، جامع اور مکمل طور پر اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا ممکن بنایا جائے، غزہ کے شہریوں کو واپس ان کے گھروں میں جانے کی مکمل آزادی اور حق دیا جائے، غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کو لوگوں کی ضروریات کے حوالے سے مکمل کیا جائے، نیز غزہ کی تعمیر نو کی جائے اور قیدیوں کے تبادلے کا ایک باعزت معاہدہ کیا جائے۔'
حماس سربراہ نے کہا ' قیدیوں کی تبادلے میں رہائی یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدی بھی ہیں اور سات اکتوبر کے بعد سے غزہ سے گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کو بھی بدلے میں رہا کیا جائے۔'
انہوں نے اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا ' اسرائیل صرف عارضی جنگ بندی چاہتا ہے تاکہ اس دوران اس کے یرغمالی رہا ہو جائیں اور وہ اس کے بعد دوبارہ سے جنگ کو جاری رکھ سکے، جبکہ حماس کا موقف اس کے بر عکس ہے کہ اگر جنگ بندی ہو گی تو مستقل جنگ بند ہوگی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو آج بھی اسرائیلی فوج کے رفح پر حملے کے لیے پر جوش ہیں۔ واضح رہے رفح 15 لاکھ بے گھر ہو کر آنے والے فلسطینیوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔