صدقہ فطر نقدی دینا درست نہیں، ایسا کرنا خلاف سنت ہے: مفتی اعظم سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مفتی اعظم اور کبار علماء کونسل کے چیئرمین الشیخ عبد العزیز آل الشیخ نے کہا ہے کہ صدقہ فطرنقد شکل میں ادا کرنا خلاف سنت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضور ﷺ اورخلفاء راشدین اور خوراک کی شکل میں صدقہ فطرادا کرتے تھے۔

خیال رہے کہ سعودی مفتی اعظم کا یہ بیان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا اور بعض دوسرے میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک بحث چل رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نقدی کی شکل میں زکواۃ ادا کرنا مناسب نہیں بلکہ بہتر ہے کہ زکواۃ اور صدقات کو جنس میں ادا کیا جائے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مملکت کے مفتی اعظم نے کہا کہ "صدقہ فطر انسانی خوراک گندم، چاول، کشمش اور جو سمیت دیگر چیزوں سے لیا جاتا ہے۔ مسلمان رمضان المبارک کے آخری دن غروب آفتاب سےپہلے صدقہ فطر ادا کرتے ہیں تاہم عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی صدقہ فطر ادا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس کی ادائیگی 28 رمضان یا مقدس مہینے کی 29 تاریخ سے شروع ہو سکتی ہے۔ صدقہ فطر غریبوں کے ہاتھوں میں پہنچایا جانا چاہیے یا ان لوگوں کو دیا جانا چاہیے جو صدقہ فطر وصول کرنے پر مقرر ہیں‘‘۔

الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے مزید کہا کہ "صدقہ فطر تمام مسلمانوں، مردوں اور عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں، آزاد اور غلاموں پر ایک صاع اناج کے طور پر لازم ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کے طور پر فرض کیا۔ یہ چھوٹے بچوں، بوڑھوں، مرد اور عورت، آزاد اور مسلمان غلام پر واجب ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں