عراق میں الحشد ملیشیا کے ہیڈکوارٹرز پر بمباری، امریکہ کا اظہار لاتعلقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی رات ایک "دھماکے" نے وسطی عراق میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جس میں عراقی فوج اور ایران کی وفادار پاپولر موبلائزیشن فورسز [الحشد] کے ارکان شامل ہیں۔ یہ ملیشیا اب عراقی سکیورٹی فورسز میں ضم ہوچکی ہے۔

عراق میں الحشد ملیشیا کے ایک ذریعے نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو بتایا کہ بغداد کے جنوب میں بابل گورنری میں واقع کالسو کیمپ جسے پاپولر موبلائزیشن فورسز کی کچھ تنظیمیں اپنے ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کرتی ہیں، پر جمعہ کو رات دیر گئے ایک میزائل حملہ کیا۔

ذرائع نے فون پر کہا کہ "یہ حملہ فضائی نوعیت کا تھا اور اس نے بیس پر شیلڈ ڈائریکٹوریٹ آف دی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا"ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر اس واقعے میں کسی قسم کے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی‘‘۔

الحشد ملیشیا نے کہا کہ بمباری میں بیس کو مادی نقصان پہنچا اور کچھ لوگ معمولی زخمی ہوئے۔

امریکہ کی حملے میں ملوث ہونےکی تردید

ایک امریکی اہلکار نے "العربیہ انگلش" کو بتایا کہ امریکی افواج کا "عراق کے بابل شہر میں حالیہ حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔

بعد ازاں ایک بیان میں سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ "ہم ان رپورٹس سے آگاہ ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے آج عراق میں فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ رپورٹس غلط ہیں"۔

العہد ٹی وی چینل نے بعد میں اطلاع دی کہ وسطی عراق میں بابل گورنری کے جنوب میں ایک نیا حملہ کیا گیا۔

چینل نے بابل کونسل میں سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ مہند العنزی کے حوالے سے بتایا کہ گورنری میں پانچ زور دار دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں لگنے والی آگ پر شہری دفاع قابو پا لیا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے دوسری جانب عراق اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔اسرائیل نے خطے میں موجود اسرائیلی پراکسیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں