حماس کی حراست میں موجود 133 یرغمالیوں میں سے صرف 40 ابھی تک زندہ ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی جنرل سکیورٹی سروس’شین بیت‘ کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی یا کسی اور جگہ حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 133 افراد میں سے صرف 40 ابھی تک زندہ ہیں۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے اتوار شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا کہ’شین شن بیت‘ کے اندازے کے مطابق گذشتہ 7 اکتوبر کو "طوفان الاقصیٰ " کے حملوں کے بعد جمع کی گئی انٹیلی جنس معلومات سےپتا چلتا ہے کہ حماس کی حراست میں موجود 133 اسرائیلیوں میں سے صرف چالیس زندہ ہیں باقی اسرائیلی بمباری میں مارے جا چکے ہیں۔

اخبار نے ایک اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ''انٹیلی جنس معلومات تک رسائی 7 اکتوبر سے پہلے کے مقابلے میں بہت آسان ہو گئی ہے۔ سات اکتوبرکے واقعے سے قبل اسرائیلی خفیہ اداروں کی غزہ تک ہماری محدود تھی اور ان کے پاس بہت زیادہ وسائل فراہم کرنے کی صلاحیتیں نہیں تھیں۔ اس وقت حماس ہر چیز کو انتہائی خفیہ رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ انٹیلی جنس اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ حماس کبھی بھی تمام یرغمالیوں کو رہا اورلاشوں کو واپس نہیں کرے گی

ایک اور اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ "مذاکرات میں تعطل کی ایک وجہ ہے، ہم سینکڑوں یا ہزاروں دیگر دہشت گردوں کی رہائی کے لیے لاشوں پر بات چیت نہیں کر سکتے"۔ تاہم اسرائیلی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے گذشتہ جمعہ کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے سے دو بار انکار کیا تھا۔دوسری طرف حماس کےلیڈر یحییٰ السنوار نے کئی ماہ قبل قیدیوں کی رہائی کے لیے جو شرائط رکھی تھیں ان میں تبدیلی نہیں کی۔ حماس کی تازہ ترین تجویز جو اسرائیل کو پیش کی گئی تھی انہی شرائط پر مشتمل تھی جو پہلے پیش کی جا چکی ہیں۔ حماس وقت گذرنےکے ساتھ اپنے مطالبات کو مزید سخت کر رہی ہے۔

یدیعوت احرونوت یہ بھی اطلاع دی کہ السنوار کو "ایندھن، دوائیوں اور خوراک کی اشد ضرورت تھی، وہ دو مغوی افراد کو آزاد کرنے پر راضی ہو گئے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس اغوا شدہ افراد کی تعداد کم ہے تو معاہدے کی شرائط تبدیل کردیں۔ یہ ایک افسوسناک غلطی تھی۔

یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کے باوجود صورتحال بدستور مشکل ہے۔ اب تک 112 یرغمالیوں کو تبادلے کے معاہدے کے تحت اسرائیل کو واپس کر دیا گیا ہے۔ اب اسرائیل کی نظریں رفح پر مرکوز ہیں جہاں لاکھوں بے گھر افراد کے مستقبل کے حوالے سے امریکہ اور مصر سمیت دیگر ممالک بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تل ابیب کو غزہ کے انتہائی جنوبی چھوٹے سے شہر پر حملے سے گریز کا مشورہ دے رہے ہیں۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ رفح میں حماس کا آخری گڑھ ہے۔ نیز اس کے بہ قول حماس نے تمام یرغمالیوں کو اسی علاقے میں زیرزمین سرنگوں میں چھپا رکھا ہے اور حماس کی بیشتر قیادت اسی علاقے میں چھپی ہوئی ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ "دوسرا موقع پچھلے مہینے خان یونس میں اسرائیلی کنٹرول کے عروج پر سامنے آیا تھا۔ اسرائیل نے اپنے ہاتھ میں ایک اہم سودے بازی کی چپ پکڑی ہوئی تھی۔ حماس پورے غزہ سے فوری اسرائیلی انخلاء کی اپنی شرط سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار تھی لیکن اس نے غزہ کی پٹی کی تقسیم کو ترک کرنے اور شمال میں آبادی کی واپسی پر اصرار کیا۔ نیتن یاہو اپنی تجاوزیر پرقائم رہے۔ دونوں میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجی سے جنگ بندی کی کوشش ناکام ہوگئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں