عراق کے مقتدی الصدر نے امریکی جامعات میں احتجاج کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر نے ہفتے کے روز امریکہ کی یونیورسٹیوں میں فلسطینیوں کے حامی کیمپوں کی حمایت کا اظہار کیا اور ان کے خلاف پولیس کارروائی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

صدر نے ایک بیان میں کہا، "ہم امن اور آزادی کی وکالت کرنے والی آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

"صہیونی دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی امریکی یونیورسٹیوں کی آواز، ہماری آواز ہے۔"

شعلہ بیان مقتدی الصدر نے ایک ملیشیا کی قیادت کی تھی جو 2003 میں امریکہ کے زیرِ قیادت حملے کے بعد امریکی افواج سے لڑ رہی تھی۔ اس حملے میں فوجی آمر صدام حسین کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے والے سب سے بڑے اتحادی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے طول و عرض میں یونیورسٹی کیمپسز میں احتجاج ہوا ہے اور کیمپ لگائے گئے ہیں۔

طلباء مظاہرین کہتے ہیں کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں جہاں حماس کے زیرِ انتظام فلسطینی علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کم از کم 34,388 ہو چکی ہے۔

امریکہ میں بڑھتے ہوئے مظاہروں کے جواب میں پولیس نے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی ہیں جن میں بعض اوقات کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے جلن پیدا کرنے والے کیمیکلز اور ٹیزر کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تمام عراقی سیاسی دھڑے فلسطینی تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ عراق بھی اپنے ہمسایہ ملک اور اسرائیل کے حلیف دشمن ایران کی طرح اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں