اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر رفح پر اسرائیل کے زمینی حملے کے بارے میں اٹل انداز اختیار کر کے رفح پر حملے کے منصوبے کو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ ہونے یا نہ ہونے سے برتر قرار دیا ہے۔
وہ تقریبا یہ کہہ رہے تھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ' یرغمالیوں کی رہائی کا۔معاہدہ اور جنگ بندی ہوتی ہے یا نہیں ' ہر دو صورتوں اسرائیل رفح پر حملہ کر کے رہے گا۔ '
نیتن یاہو۔نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ کے دورہ مشرق وسطی کے عین اس موقع پر دیا ہے جب انٹونی بلنکن کئی اہم اور کامیاب ملاقاتوں کے بعد سعودی عرب سے اردن پہنچ چکے ہیں اور اسرائیل کا دورہ شروع ہو رہا ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان ان کے دفتر نے منگل کے روز باضابطہ جاری کیا ہے ۔ بیان کے مطابق 'یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہم اپنی جنگ کے تمام مقاصد حاصل کیے بغیر اپنی جنگ کو راستے میں روک دیں گے یہ خیال ہی نہ کیا جائے۔ '