فلسطینی اور اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طولکرم کے قریب رات بھر کی کارروائی میں حماس کے چار مزاحمت کاروں سمیت پانچ فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔
حماس نے تصدیق کی کہ دیر الغسون گاؤں میں چھاپے کے دوران ہلاک شدہ چار افراد اس کے عزالدین القسام بریگیڈ کے مسلح ونگ سے تھے۔
فلسطینی وزارتِ صحت نے کہا کہ ان کی لاشیں اسرائیلی فوج لے گئی تھی۔
مغربی کنارے میں فلسطینی وزارتِ صحت نے کہا کہ پانچویں شخص کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی جس کی لاش اس قدر مسخ شدہ تھی کہ فوری شناخت کے قابل نہ تھی۔
اسرائیلی فوج نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی میں پولیس کے خصوصی یونٹ کا ایک اسرائیلی افسر زخمی ہوا ہے جس کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ حماس کے ایک سیل کو نشانہ بنانے کے لیے تھی۔ یہ سیل متعدد فائرنگ اور کار بم حملوں کا ذمہ دار تھا۔
اس میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ گذشتہ نومبر میں ایک حملے میں ایک فوجی رکنِ مخصوصہ کو ہلاک اور ایک پولیس افسر کو زخمی کرنے کا ذمہ دار تھا اور اس نے اپریل میں ایک کار بم حملہ بھی کیا تھا جس میں ایک فوجی سمیت دو اسرائیلی زخمی ہوئے تھے۔
طولکرم شہر کے نکتۂ اشتعال کے قریب ہفتہ کی کارروائی اسرائیلی افواج اور فلسطینیوں کے درمیان مغربی کنارے میں ہونے والی تازہ ترین جھڑپ تھی جہاں کشیدگی دو سال سے زیادہ عرصے سے کافی زیادہ تھی لیکن گذشتہ اکتوبر میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اس میں شدت آئی ہے۔
حماس سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی مغربی کنارے میں اپنا جنگی نیٹ ورک بنا رہا تھا۔
چھاپے کے دوران اسرائیلی فوج نے 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی کارروائی میں ایک دو منزلہ مکان کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے ریکارڈ کے مطابق سات اکتوبر سے مغربی کنارے یا مشرقی یروشلم میں اسرائیلی افواج یا یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں تقریباً 500 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ بہت سے مسلح مزاحمت کار تھے لیکن پتھراؤ کرنے والے نوجوان اور غیر متعلقہ شہری بھی مارے گئے ہیں۔
فلسطینی بنیادی حصے کے طور پر مغربی کنارہ اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد ریاست چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ ان حصوں پر اسرائیل نے 1967 کی شرقِ اوسط جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔
اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان معاہدہ طے کروانے کے لیے امریکی حمایت یافتہ مذاکرات گذشتہ ایک عشرے سے تعطل کا شکار ہیں لیکن غزہ جنگ نے دو ریاستی حل تک پہنچنے کی کوششوں کے احیاء کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔