ایک طرف حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں تو دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلہ کے معاہدہ نہ کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ حماس نے ایسے اشارے دے دیے ہیں کہ وہ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ معاہدہ نہ ہوا تو اسرائیل اس کی حمایت کرے گا اور جلد ہی ہم رفح اور دیگر علاقوں میں داخل ہوجائیں گے۔
ادھر اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی بین گویر نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "اب رفح میں داخل ہوجاؤ!" بن گویر نے ’’ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا ہم نے غزہ پر حملہ نہیں کیا اور ہمیں 7 اکتوبر مل گیا، ہم نے فوری حملہ نہیں کیا تو ہمیں ایک سخت حملے کا سامنا کرنا پڑا، نیتن یاھو اب رفح کی طرف جاؤ۔
اسرائیلی وزیر کا ٹویٹ اسرائیلی وزیر اعظم کے ان بیانات سے مطابقت رکھتا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اسرائیل حماس کے جنگ کے خاتمے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر سکتا۔
واضح رہے بین گویر کے یہ الفاظ نیتن یاہو کے دفتر کے سامنے اتوار کو ہونے والے مظاہروں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ قیدیوں کے معاہدے کو ختم نہ کریں۔ اتوار کو ہی اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے غزہ کی پٹی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے لیے ایک مظاہرے میں رفح شہر پر حملے کو تیز کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ سموٹریچ نے کہا ہر کوئی قیدیوں کو واپس لانا چاہتا ہے لیکن ہتھیار ڈالنا نہیں۔