رئیسی کی ہلاکت، ایران میں مہلک فضائی حادثات پر ایک نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صدارتی ہیلی کاپٹر کا حادثہ جس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ،ان کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر 7 افراد کی جانیں گئیں پہلا حادثہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

حکومت کی جانب سے آج پیر کی صبح سرکاری طور پر رئیسی کی عبداللہیان کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں موت کے اعلان کے بعد ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ کہ حادثہ ہفتے کو ملک کے شمال مغرب میں مشرقی آذربائیجان صوبے میں آذربائیجان کی سرحد کے قریب ایک ناہموار علاقے میں جنگل میں پیش آیا۔

دیگر حادثات

فروری 2023 میں ایران کے سابق وزیر کھیل اور نوجوان حمید سجادی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر ملک کے جنوب میں کرمان صوبے کے شہر بافت میں لینڈنگ کے دوران اسی طرح کے ایک حادثے کا شکار ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ جب کہ معاون وزیر اسماعیل احمدی سمیت کئی افراد مارے گئے تھے۔

فروری 2022 کو ایک ایرانی لڑاکا طیارہ ملک کے شمال مغرب میں تبریز شہر کے رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا اور اس حادثے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ 18 فروری 2018 کو اندرون ملک پرواز کے دوران اصفہان صوبے کے جنوب میں ایک ایرانی طیارے کے گرنے سے 66 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے 25 مئی 2016ء کو ایران نے مغربی ایران کی ہمدان گورنری میں ایک MiG-29 لڑاکا طیارے کی تباہی کے نتیجے میں اس کا پائلٹ ہلاک ہوگیا تھا۔

سنہ2005 میں ایرانی پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کے کمانڈر احمد کاظمی ایرانی پاسداران انقلاب کے متعدد کمانڈروں کے ساتھ ارمیا کے قریب ڈیسالٹ فالکن 20 طیارے کے حادثے میں مارے گئے۔

فراز قشم ایئرلائنز کا یاک 40 طیارہ 2001 میں شمالی ایران کے مازندران صوبے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں وزیر شاہرات اور ٹرانسپورٹ رحمان دادمان سوار تھے۔

1994 میں بھی اصفہان کے بہشتی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب طیارے کے حادثے میں ایئر فورس کے کمانڈر منصور ستاری ایئر فورس کے سینئر افسران کے ساتھ مارے گئے تھے۔

1981 میں ایرانی فضائیہ کا ایک C-130 ہرکولیس طیارہ تہران کے قریب گر کر تباہ ہوا اور اس واقعے میں ایران عراق جنگ کے اہم ترین رہ نماوں کے گروپ کے 77 مسافروں میں سے صرف 19 زندہ بچے تھے باقی مارے گئے تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کئی ملکی پروازوں کی منسوخی کے علاوہ ہوا بازی کے حادثات کی تکرار نے ہمیشہ اسباب کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر خستہ حال فضائی بیڑے کے مصائب کے بارے میں رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے اس کی فضائیہ کے پاس جدید ترین ہیلی کاپٹر اور جہاز نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں