اسرائیلی عوام کی اکثریت حزب اللہ کے خلاف وسیع جنگ کی حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان-اسرائیلی سرحد پر اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان گذشتہ چند دنوں کے دوران خون ریز تصادم میں نمایاں اضافہ کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی عوام کی اکثریت حزب اللہ کےخلاف وسیع تر جنگ کی حامی ہے۔

اس ہفتے کے ایک نئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلیوں کی ایک بڑی اکثریت (تقریباً 62 فی صد) اپنے ملک کی حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

اس سروے میں صرف 18 فی صد نے حزب اللہ کے خلاف وسیع تر جنگ کی مخالفت کی ہے۔ سات اکتوبر کے بعد ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ سرحد پر محاذ آرائی شروع ہونے کے بعد سے ہزاروں اسرائیلی شمال میں اپنے گھروں سے فرار ہو چکے ہیں۔

جبکہ 20 فی صد نے کسی قسم کی رائے دینے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔

یہ حمایت صرف دائیں (84 فی صد کی بھاری اکثریت) تک محدود نہیں ہے بلکہ اس رائے کا اظہار رکنے والے بائیں بازو کے 56 فی صد لوگ بھی شامل ہیں۔

یہ سروے اس وقت سامنے آیا جب گذشتہ دو دنوں میں یورپی، اقوام متحدہ اور امریکی انتباہات میں اضافہ ہوا ہے جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ شمالی اسرائیل میں تصادم خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔

لبنان اسرائیل سرحد سے
لبنان اسرائیل سرحد سے

مشکل دن

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ لبنان کے ساتھ سرحد پر صورتحال جوں کی توں نہیں رہ سکتی۔

اسرائیلی جنگی کونسل کے رکن بینی گینٹز نے بھی آنے والے مشکل دنوں سے خبردار کیا ہے۔

کچھ انتہا پسند اسرائیلی وزراء نے جنوبی لبنان پر حملے کا مطالبہ کیا ہے۔

سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر بمباری کا تبادلہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں طرف سے ہزاروں افراد بے گھر ہو چکےہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے لبنان میں 450 سے زائد افراد کو ہلاک کیا جن میں 88 عام شہری اورباقی تقریباً 360 ارکان حزب اللہ کے جنگجو شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں