امریکہ، سی پی جے کی یومِ یروشلم مارچ کے دوران صحافیوں پر حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی (سی پی جے) اور امریکی حکومت نے جمعرات کو یومِ یروشلم پرچم بردار مارچ کے دوران صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے۔

سی پی جے نے اپنے آجروں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ پانچ جون کو 1967 کی جنگ میں اسرائیلی افواج کے مشرقی یروشلم پر قبضے کی یاد میں منعقدہ مارچ کے دوران اسرائیلی آباد کاروں اور انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین نے فلسطینی فری لانس صحافی سیف القاسمی اور اسرائیلی صحافی نیر حسون پر حملہ کر دیا۔ سیف القاسمی مقامی ایجنسی آسیمان نیوز میں کام کرتے ہیں اور نیر حسون اسرائیلی روزنامہ ہارٹز کے رپورٹر ہیں۔

پرچم لہراتے ہزاروں اسرائیلیوں نے بدھ کو سالانہ مارچ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ نوعمر افراد سمیت 18 کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک صحافی پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتاری شامل ہے۔

سی پی جے کے پروگرام کے ڈائریکٹر کارلوس مارٹینیز ڈی لا سرنا نے کہا کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز "خاموش تماشائی بنی کھڑی رہیں" جب کہ مظاہرین نے صحافیوں کو ہراساں اور ان پر حملہ کیا۔ سی پی جے نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کا محاسبہ کرے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی اسرائیل پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کو ایسے حملوں سے بچائے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے علیحدہ طور پر صحافیوں کو بتایا، "ہم نے اس واقعے کی ویڈیوز دیکھی ہیں۔ ہم نے تصاویر دیکھی ہیں۔ اور ہم ان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ (اسرائیل) صحافیوں کو اس قسم کے حملوں سے بچائے گا۔"

اس کے علاوہ اسرائیلی حکومت کو غزہ جنگ میں 100 سے زائد صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی ہلاکت اور اسرائیل میں الجزیرہ کے کام کرنے پر پابندی کی وجہ سے انسانی حقوق اور پریس کے حامیوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیل صحافیوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے اور اس نے کہا ہے کہ الجزیرہ پر اس کی عارضی پابندی قومی سلامتی کے خدشات کی وجہ سے تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں