سلامتی کونسل غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی قرارداد پر آج ووٹنگ کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج امریکہ کی طرف سے پیش کردہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ کرے گی۔ یہ قرارداد امریکی صدر جوبائیڈن کی جنگ بندی سے متعلق 31 مئی کو پیش کیے گئے منصوبے کی حمایت کے لیے پیش کی گئی ہے۔ تاکہ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان جنگ بندی ہو سکے۔

امریکہ نے اس قرارداد کے متن کو اتوار کے روز فائنل کیا۔ اس سے قبل اس پر سلامتی کونسل کے 15 راکان کے درمیان چھ روز تک تبادلہ خیال جاری رہا۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ چین اور روس جو دونوں ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں ، اس قرارداد کو منظور کرانے کے حق میں ووٹ دیں گے یا نہیں۔

واضح رہے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے کسی بھی قرارداد کو منظور کرانے کے لیے 15 میں سے کم از کم 9 ووٹوں کا اس کے حق میں آنا ضروری ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ 9 ووٹ ملنے کے بعد کوئی ویٹو کا اختیار رکھنے والا ملک اسے ویٹو نہ کر دے۔

ویٹو کا اختیار رکھنے والے ملکوں میں امریکہ، روس اور چین کے علاوہ برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے 31 مئی کو غزہ میں جنگ بنندی کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ پیش کیا۔ جس میں جنگ بندی ، یرغمالیوں کی رہائی ، انسانی بنیادوں پر غزہ میں امداد کی ترسیل ، غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور غزہ میں حماس کی حکومت کے بغیر تعمیر نو کے نکات شامل ہیں۔

جوبائڈن پلان میں کہا گیا ہے کہ اگر جنگ بندی کے لیے ابتدائی مدت یعنی 6 ہفتوں کے دوران مذاکرات میں کوئی مزید پیش رفت نہیں ہوتی تو اس دوران بھی مذاکرات کے ساتھ جنگ بندی جاری رہے گی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماہ مارچ میں مطالبہ کیا تھا کہ فوری جنگ بندی کی جائے۔ نیز حماس بغیر کسی شرط کے یرغمالیوں کو رہا کرے۔

قطر، مصر اور امریکہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی کی جائے اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا یقینی بنایا جائے۔

خیال رہے غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں 37 ہزار سے زائد فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ قتل ہونے والے فلسطینیوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں