غزہ جنگ ، روزانہ وقفے کے اعلان پر نیتن یاہو اور فوج میں اختلاف یا درپردہ حکمت عملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر جنگ میں وقفے کے اعلان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نیتن یاہو کی طرف سے یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب فوج کی طرف سے بظاہر اس اپنی نوعیت کے پہلے یکطرفہ اعلان کی اطلاع ملی۔

اگرچہ غزہ سے عید الاضحیٰ کے روز بھی یہی اطلاعات سامنے آتی رہیں کہ عید کے باعث کچھ جنگی وقفوں کا اسرائیلی اشارہ بھی درست ثابت نہیں ہوا اور اسرائیلی جنگی کارروائیاں اسی طرح جاری رکھی گئیں، جس طرح اس سے پہلے جاری تھیں۔ مگر یہ اچانک اعلان فوج نے کیا ہے کہ وہ غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے کچھ علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر جنگ روکا کرے گی۔ اسی اعلان پر نیتن یاہو ناراض ہیں۔

اس فوجی اعلان کا تعلق بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مکمل طور پر الگ بھی نہیں ہے جن کی وجہ سے اسرائیلی سیاسی و حکومتی قیادت کو بین الاقوامی قانون کے تحت کئی عدالتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اسی سبب خود وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا اشارہ مل چکا ہے۔

ایسے ہی کئی خطرات اسرائیلی فوج کے اعلیٰ حکام اور اہلکاروں کے لیے بھی نظرانداز نہیں کیے جاتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کی غزہ جنگ غیر معمولی طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آئینہ دار ہے۔

جن کے مضمرات سے بچنے کے لیے کم از کم اس طرح کے اعلانات کرنے کا ریکارڈ اسرائیلی فوج کے ہاتھ میں ہونا ضروری ہے۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو نیتن یاہو کی تنقید اسرائیلی فوج کے لیے بین الاقوامی عدالتوں کی سطح پر چیلنجوں کے حوالے سے مفید ہو گی۔

اگر ایسا نہیں ہے تو کیا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی فوج پر گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ وہ بھی کل کلاں چاہیں تو اسی کو اپنے لیے بین الاقوامی سطح پر عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ چھ بار وزیر اعظم بن چکے اور سیاسی اعتبار سے اپنے کیرئیر کے انجام کو پہنچے ہوئے شخص سے یہ توقع کرنا مشکل نہیں ہے۔

اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے کرم شالوم راہداری پر روزانہ کے لیے جنگی وقفے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وقفہ فوج کے مطابق صبح پانچ بجے سے سہہ پہر 4 بجے تک رہے گا۔ اس دوران کرم شالوم راہداری سے صلاح الدین روڈ تک اور اس کے نزدیک شمال کی طرف جنگی وقفہ رہے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جب اس اعلان کے بارے میں سنا تو ایک اسرائیلی ذمہ دار کے مطابق انہوں نے اپنے ملٹری سیکرٹری سے کہا ہے کہ فوج کو بتایا جائے کہ یہ 11 گھنٹوں پر پھیلا وقفہ قابل قبول نہیں ہے۔

اس کے بعد فوج نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ معمول کی جنگ اور جنگی کارروائیوں میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ حتیٰ کہ رفح میں بھی جنگ جاری رہے گی۔ نیز جنوبی غزہ میں بھی اسرائیلی فوج اپنی جنگی کارروائیوں کے حوالے سے فوکس جاری رکھے گی۔ واضح رہے وسطی غزہ میں ہی آٹھ اسرائیلی فوجیوں کی ہفتے کے روز ہلاکت ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو نے اس ردعمل کا اظہار اس وجہ سے بھی کیا ہے کہ انہیں آنے والے دنوں میں غزہ کے سلسلے میں سیاسی مسائل کا اندرونی طور پر سامنا رہے گا۔ جہاں بین الاقوامی تنظیمیں پہلے ہی خبردار کر رہی ہیں کہ اس علاقے میں انسانی المیہ بڑھ رہا ہے۔

اندرونی سلامتی کے اسرائیلی وزیر بین گویر نے بھی اس ٹیکٹیکل وقفوں کے تصور کی مخالفت کی ہے۔ ان کے مطابق ' جس کسی نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے یہ ایک احمقانہ فیصلہ ہے اور ایسے لوگوں کو اپنی نوکری سے جانا پڑے گا۔'

اتحادیوں اور فوج میں تفرقہ و تقسیم

خیال رہے جاری جنگ کے نو مہینوں کے دوران مخلوط حکومت میں شامل اتحادیوں اور فوج کے درمیان جنگی امور پر یہ اختلاف کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ یہ اختلاف جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹز کے استعفے کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے۔ بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس غزہ جنگ کے لیے کوئی جنگی سٹریٹجی ہی نہیں ہے۔

اسرائیلی حکومت اور پالیسی سازوں کے درمیان یہ اختلاف اس وقت بھی سامنے آیا جب وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں حکومتی فیصلے خلاف ووٹ دیا۔ ووٹنگ کا یہ معاملہ اسرائیل کے انتہائی کٹر یہودیوں کے لیے جنگ لڑنے سے استثنا اور چھوٹ کے حوالے سے تھا ۔

انتہا پسند اور کٹر مذہبی یہودی چاہتے ہیں کہ ان کے مذہبی و جنگی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے غیر مذہبی لڑیں مگر خود مذہبی لوگوں کو جنگ نہ لڑنا پڑے۔ ان کی جنگوں سے خود کو اور اپنے خاندانوں بچانے کی اس خواہش کے نظر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کرائی گئی ہے۔ جب وزیردفاع نے وزیر اعظم کی خواہش کے خلاف ووٹ دیا ۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حیلوی نے اتوار کے روز اس بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ انتہائی کٹر مذہبی یہودیوں کی تیزی سے بڑھنے والی آبادی کی ہمیں لازماً فوج میں ضرورت ہے کیونکہ ' ریزاروسٹ ' فوجیوں پر دباؤ ہے۔

اسرائیلی ریزرو فوجی دباؤ کا شکار

جنگ بندی کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود، لڑائی کو روکنے کا معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے۔ اب تک اسرائیلی فوج نے 37337 فلسطینیوں کو صرف غزہ میں ہلاک کیا ہے۔ جبکہ غزہ کا بہت بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر نچلی سطح کا تنازعہ اب ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ اسرائیلی افواج اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے درمیان تقریباً روزانہ ہونے والی فائرنگ کا تبادلہ بڑھ گیا ہے۔

اس سلسلے میں جنگ بڑھنے کے امکانات نظر آتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت نے اسرائیلی سرحدی علاقوں سے نکلنے والے اسرائیلیوں کے لیے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کو اخراجات کی مدد میں فنڈز دینے کی مدت میں 15 اگست تک اضافے کا عندیہ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں