غزہ میں حماس کا متبادل تلاش کر رہے ہیں: اسرائیلی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت ساڑھے آٹھ ماہ سے جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اگلے کئی ماہ بھی جاری رہے گی۔ اسی دوران اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر نے انکشاف کیا کہ پٹی پر حکمرانی کے لیے حماس کے متبادل کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سینئر مشیر زاچی ہنیگبی نے منگل کو کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے کہ اقوام متحدہ اور کچھ یورپی اور عرب ممالک حماس کی حکمرانی کا متبادل کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔

حماس کو شکست نہیں دی جا سکتی

زاچی ہنیگبی نے یہ بھی کہا کہ حماس کو بطور ایک نظریہ شکست نہیں دی جا سکتی اور غزہ کی پٹی میں اس کی جگہ مقامی قیادت کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کی پٹی سے حماس کو صاف کرنے کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے مقامی فلسطینیوں پر انحصار کرنے کے خیال پر بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی بازیابی کے لیے لڑ رہی ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے وضاحت کی کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے پہلے اعلان کردہ جنگی اہداف پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ سات اکتوبر کو ہونے والے واقعات کے دوبارہ وقوع کو روکا جا سکے۔ ان کا اشارہ حماس کو عسکری طور خاتمے کی جانب تھا۔

لبنان کی سرحد پر شمالی محاذ سے متعلق انہوں نے کہا کہ حکام آنے والے ہفتوں میں لبنان کے ساتھ تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بہتر یہ ہوگا کہ اس تنازعے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکے۔ ان کا یہ بیان اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے کہ حماس کو ایک خیال اور نظریے کے طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا سوائے اس کے کہ غزہ پر حکومت کرنے کے لیے اس کا متبادل تلاش کیا جائے۔

ہگاری کے بیان نے اسرائیلی وزیر اعظم کو مشتعل کیا تھا جن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے خاتمے تک غزہ پر اس کا حملہ نہیں رکے گا۔ گزشتہ ہفتے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے نیتن یاہو سے عوامی طور پر مطالبہ کیا تھا کہ غزہ کے ان علاقوں میں جہاں سے فوج نکل گئی تھی وہاں اس کی واپسی کے حوالے سے واضح حکمت عملی کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے حماس کو ختم کرنے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے سوا نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح سٹریٹجک ہدف نہیں بتایا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے بدترین بمباری اور گولہ باری کرکے غزہ میں 37 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کردیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے خاتمے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی پٹی کا انتظام دینے کی تجویز بھی مسترد کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں