سوئٹزرلینڈ میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے سعودی ڈاکٹر عبد اللہ العنزی کے بھائی عامر العنزی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں سعودی سفیر ڈاکٹر عادل مرداد نے ان سے فون پر رابطہ کیا۔ العنزی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بدھ کی شام ہونے والے رابطے میں ان کے بھتیجے عبد العزیز کی تلاش کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔
یاد رہے کہ یہ اندوہ ناک واقعہ 10 روز قبل سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقے میں واقع برینز جھیل کے گیزباخ آبشار پر پیش آیا تھا۔ دو سالہ عبدالعزیز پاؤں پھسلنے سے جھیل میں گر گیا۔ اس پر والد ڈاکٹر عبداللہ نے پانی میں جا کر بیٹے کی جان بچانے کی کوشش کی مگر وہ بھی موت کی نذر ہو گیا۔
سوئس سیکورٹی حکام کے مطابق پانی میں سیلابی کیفیت کے سبب ڈیڑھ ہفتے سے زیادہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک بچے کی لاش نہیں مل سکی۔
عامر العنزی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "حادثے کے موقع پر جائے وقوع کے نزدیک ایک سعودی گھرانہ موجود تھا۔ اس گھرانے نے میرے بھائی کی اہلیہ اور 6 سالہ بھتیجی کیان کی شدید گھبراہٹ اور پریشانی دیکھی اور سعودی سفارت خانے اور مقامی پولیس سے رابطہ کیا"۔
العنزی کے مطابق دو روز بعد جھیل کے کنارے اس کے بھائی کی لاش مل گئی۔ میت کو سعودی عرب منتقل کر دیا گیا جہاں ہفتے کے روز ریاض میں ڈاکٹر عبد اللہ کی نماز جنازہ اور تدفین ہوئی۔
اس واقعے کو #الدكتور_عبدالله_العنزي کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر توجہ حاصل ہوئی۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں سعودی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملک کے بیشتر شہروں میں طوفانی بارشوں کے سبب انتہائی احتیاط سے کام لیں ... مزید یہ کہ متعلقہ حکام کی جانب سے سلامتی سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔