مئی کا مہینہ اسرائیل کی غزہ جنگ میں کئی حوالوں سے اہم رہا۔ سات مئی کو اسرائیل نے رفح پر زمینی حملہ کیا۔ 20 مئی کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے حماس رہنماوں سمیت نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
اسی ماہ مئی کے اواخر یعنی 31 مئی کو صدر جو بائیڈن نے تین مراحل پر محیط جنگ بندی منصوبہ تجویز کیا۔ بعض لوگوں نے اس کے سیاسی معنی لیے ہیں کہ ایسا کرنا جو بائیڈن اور نیتن یاہو دونوں کی سیاسی ضروتوں کے لیے ضروری تھا۔
مگر آئی سی سی کے پراسکیوٹر کریم خان نے غزہ کے دورے کے بجائے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی اپنی درخواست کو ترجیح اس طرح دی کہ ان وارنٹوں کے شور کے بعد ان کا غزہ کو دورہ نہ ہو سکا۔ اس جنگ بندی منصوبے کے بعد جوبائیڈن کی مقبولیت میں قدرے اضافہ ہوا جبکہ نیتن یاہو کے فوجداری عدالت کے وارنٹس کا ایشو بھی دب سا گیا۔
اس معاملے سے باخبر ذرائع نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے 'آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کی امریکی حکام کے ساتھ اس سلسلے میں کئی ماہ سے بات چیت چل رہی تھی کہ وہ جنگی جرائم کے شواہد اکٹھے کرنے غزہ جائیں گے۔
لیکن نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کا ذکر سامنے آنے پر امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے ممکن ہونے والے والے سارے منصوبے ترک کرنا پڑ گئے۔ وجہ ظاہر ہے۔ امریکہ اور برطانیہ اسرائیل کے اہم ترین اتحادی ہیں۔ ان وارنٹس کی خبروں کے بعد ہی تو نیتن یاہو کو امریکی کانگریس سے خطاب کی دعوت دی گئی ہے کہ نیتن یاہو کہیں 'گھبرا نہ جائے۔'
واضح رہے اسرائیل نے کبھی بھی پراسیکیوٹر کو غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد جمع کرنے کی اجازت نہ دی تھی۔ حتیٰ کہ اسرائیل میں آنے کی بھی اجازت نہ دی تھی کہ اسرائیل کی جیلیں بھی جنگی اسیران کی وجہ سے پراسیکیوٹر کے لیے اہم ہو سکتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق فوجداری عدالت میں اسرائیلی حکام کے خلاف مقدمہ چلانے کی پہلی کوشش بھی امریکہ و برطانیہ کی کوششوں کے سامنے اب ماند پڑی لگتی ہے۔کیونکہ امریکہ و برطانیہ دونوں نے اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع دونوں کے وارنٹ جاری کرنے کو پسند کیا نہ اس پر عمل کے لیے تعاون کی حامی بھری تھی۔
پراکیوٹر کریم خان کے دفتر کے ذرائع کے مطابق نیتن یاہو وغیرہ کے وارنٹ حاصل کرنے کا فیصلہ، تمام معاملات میں اس کے نقطہ نظر کے مطابق تھا۔ کیونکہ یہ فیصلہ پراسیکیوٹر کے اس جائزے کی بنیاد پر تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔ نیز یہ بھی خیال تھا کہ فوری طور پر گرفتاری کے وارنٹ حاصل کرنے سے اسرائیل کو مزید جرائم سے روکا جا سکتا ہے۔
لیکن 'پھر یہ ہوا کہ' پراسیکیوٹر کے اسرائیل و فلسطین کے طے شدہ سفر اور اس کی منسوخی کے اثرات کے بارے میں اب 'رائٹرز ' پہلا ادارہ ہے جو رپورٹ کر رہا ہے۔ 'رائٹرز' کو کریم کے دفتر کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بطور پراسیکیوٹر کریم خان تین سال سے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔ کیونکہ اسرائیل کی طرح امریکہ بھی فوجداری عدالت کے دائرے سے باہر ہے کہ اس نے بھی حفظ ماتقدم کے طور پر فوجداری عدالت کی رکنیت نہیں لی ہے۔
مگر ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے وارنٹ جاری کرنے کی 'حرکت' کے بعد امریکہ کا تعاون کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ فوجداری عدالت سے امریکہ اور برطانیہ دونوں ناراض ہو گئے۔ اس طرح فوجداری عدالت کے بانی رکن برطانیہ کو بھی ناراض کر دیا گیا۔
امریکی دفتر خارجہ کے ایک اہم ذمہ دارکے مطابق واشنگٹن یوکرین اور سوڈان میں اپنی تحقیقات پر عدالت کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا، لیکن عدالت کے ساتھ امریکی انتظامیہ کے معاملات کے بارے میں براہ راست علم رکھنے والے تین ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ کریم خان کی اسرائیل کے خلاف اچانک کارروائی سے امریکی تعاون کو نقصان پہنچ گیا ہے۔ ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کریم خان کی کارروائی سے فوجداری عدالت کی دیگر جاری تحقیقات بھی امریکی تعاون کو متاثر کرے گی۔
تاہم پراسیکیوٹر کریم خان کے اسرائیلی قیادت کے بارے میں اچانک اقدام نے فوجداری عدالت کے لیے دیگر ممالک کی حمایت حاصل کی ہے۔ فرانس، بیلجیئم، اسپین اور سوئٹزرلینڈ نے فوجداری عدالت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے بیانات دیے ہیں۔ کینیڈا اور جرمنی نے زیادہ سادگی سے کہا ہے کہ وہ عدالت کی آزادی کا احترام کرتے ہیں۔ خیال رہے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پاس مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کے لیے پولیس فورس نہیں ہے، اسے 124 ممالک پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔
چند گھنٹوں کا نوٹس
دو ذرائع نے بتایا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹرکریم خان نے حالات اور اسرائیلی رد عمل کو دیکھنے کے بعد 27 مئی کے لیے طے شدہ غزہ کی پٹی، یروشلم اور مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے دورہ منسوخ کر دیا۔
-
نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری:فوجداری عدالت کے خلاف امریکی سینٹ کی کوشش فی الحال بےنتیجہ
امریکہ کے ریپبلیکنز کی اکثریت رکھنے والی ایوان نمائندگان میں اگرچہ پچھلے ہفتے بین ...
بين الاقوامى -
فوجداری عدالت سے وارنٹ گرفتاری کے اجرا پر جو بائیڈن سے نیتن یاہو مایوس ہو گئے
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو صدر جو بائیڈن سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بارے ...
بين الاقوامى -
فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی زد میں آئے یووگیلنٹ عدالت پر برسنے لگے
جنگی جرائم کے الزام میں گرفتاری وارنٹ کی زد میں آئے اسرائیلی وزیر دفاع یووگیلنٹ نے ...
مشرق وسطی