اسرائیل اگلے چند روز میں ایک بار پھر بین الاقوامی عدالت انصاف کے کٹہرے میں ہو گا۔ اس بار عدالت انصاف اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بارے میں بین الاقوامی قانون کی روشنی پیں اپنی رائے دے گی۔
بین الاقوامی عدالت انصاف سے اس بارے میں رائے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2022 میں طلب کی تھی۔ تاکہ اسرائیل کے فلسطینی علاقوں میں اقدامات کا جائزہ اس قانونی رائے کے تناظر میں لیا جاسکے ۔ ذرائع کے مطابق عدالت انصاف کی یہ قانونی رائے اسرائیل کے متعلق عالمی سطح پر جڑے بہت سے معاملات کے بارے میں نئے چیلنجوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
اسی موضوع پر دنیا کے 52 ملکوں نے بھی اپنی اپنی رائے کا بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اظہار کیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ عدالت انصاف کی رائے کے باضابطہ طور پر سامنے آنے کے بعد اسرائیل کے دنیا کے ملکوں کے ساتھ تعلقات اور معاہدات پر بھی اثرات آ سکتے ہیں۔ ماضی میں اسرائیل اس طرح کی رائے کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔
واضح رہے بین الاقوامی عدالت انصاف اقوام متحدہ سے منسلک واحد عالمی عدالتی فورم ہے جو اقوام کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ یہ عدالت اقوام متحدہ کا قانونی بازو بھی ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کے نزدیک اس کی قانونی رائے کی غیر معمولی اہمیت ہے۔