غزہ میں ’انتشار‘ پھیل رہا ہے: دفتر برائے انسانی حقوق اقوامِ متحدہ
بقا کی جنگ نے لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے جمعہ کے روز خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں "انتشار" پھیل رہا ہے۔ بے تحاشہ لوٹ مار، غیر قانونی قتل اور گولیاں چلنے کی وجہ سے آبادی کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کے لیے او ایچ سی ایچ آر کے سربراہ اجیت سُنگھے نے کہا، "اسرائیل نے غزہ میں امنِ عامہ اور تحفظ برقرار رکھنے کے لیے مقامی صلاحیت ختم کر دی" اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم موجودگی میں غیر قانونی قتل اور لوٹ مار اسی سے منسلک ہیں۔
جمعرات کو غزہ کے دورے سے واپس آنے والے سنگھے نے کہا، "ہمارے دفتر نے مقامی پولیس اور انسانی ہمدردی کے کارکنان کے مبینہ غیر قانونی قتل اور شہری آبادی کی بقا کے لیے ناگزیر فراہمی کے خاتمے کو دستاویزی شکل دی ہے۔ انتشار پھیل رہا ہے۔"
او ایچ سی ایچ آر کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا، غزہ کے حالات "علاقے میں معاشرے کے تانے بانے اُدھیڑ دینے کی وجہ بن گئے ہیں جو قابلِ پیش گوئی اور مکمل طور پر قابلِ توقع تھا جس سے لوگ اپنی بقا کی جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں اور برادریاں تقسیم ہو گئی ہیں۔"
انہوں نے کہا، "لوٹ مار، ہجومی انصاف، بھتہ خوری، خاندانی جھگڑے، بے ترتیب فائرنگ، جگہ اور وسائل کے لیے لڑائی ہوتی ہے اور ہم لاٹھیوں سے لیس نوجوانوں کو رکاوٹوں لگا کر کھڑا دیکھتے ہیں۔"