سعودی عرب کا مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی بستیوں پر عالمی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم

فیصلہ فلسطینی عوام کے انسانی اور قانونی حق کی جانب ایک مثبت قدم ہے: رابطہ عالم اسلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی آباد کاری کی پالیسی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت نے عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کا خیرمقدم کیا اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل تک پہنچنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔

عالمی عدالت نے جمعہ کو فیصلہ جاری کیا جو غیر پابند ہے۔

ایک الگ بیان میں سعودی عرب میں قائم رابطہ عالم اسلامی نے آئی سی جے کے فیصلے کو "مسئلے کے منصفانہ اور جامع حل تک پہنچنے کے لیے فلسطینی عوام کے انسانی اور قانونی حق کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔"

رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل محمد بن عبدالکریم العیسیٰ جو مسلم علماء کی انجمن کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اگرچہ غیر پابند ہے لیکن اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فلسطینیوں کو "خود ارادیت اور اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لیے ان کے جائز حقوق حاصل ہوں جو عرب امن اقدام اور متعلقہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق ہوں۔"

عدالتی پینل کو پتا چلا کہ "اسرائیل کی طرف سے آباد کاروں کی مغربی کنارے اور یروشلم میں منتقلی کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا ان کی موجودگی برقرار رکھنا چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کے خلاف ہے۔"

یہ فیصلہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ پر اسرائیل کی تباہ کن بمباری کے پس منظر میں آیا ہے۔

سعودی کابینہ نے منگل کے روز غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے اقدام کی مذمت کی۔

مملکت فلسطینی عوام کے لیے 1967 کی سرحدوں پر محیط ایک آزاد ریاست کی حامی ہے۔

امریکہ اور علاقائی ممالک حماس اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے ذریعے غزہ تنازعہ ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور فوجی سرگرمیوں کے دیرپا خاتمے کی ایک شکل شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں