ناول نگار عبداللہ بن بخیت گولڈن پین ایوارڈ کے نائب صدر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ترکی آل الشیخ نے سعودی ناول نگار، مترجم اور اسکرین رائیٹر عبداللہ بن بخیت کو جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے ثقافتی مشیر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ انہیں "گولڈن پین ایوارڈ‘‘کے نائب صدر کے طور پربھی مقرر کیا گیا ہے ۔اس سے ایک روز قبل ترکی آل الشیخ نے ممتاز ناول نگار ڈاکٹر سعد البازعی کو ایوارڈ کا چیئرمین منتخب کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بن بخیت کو سعودی اور عرب دنیا میں ادب کے ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اس میدان میں پیش کیے گئے عظیم کاموں اور کارناموں کے لیے سعودی عرب اور عرب ممالک کے ثقافتی حلقوں کی جانب سے پذیرائی اور توجہ حاصل کرتے ہیں۔ جہاں تک گولڈ پین ایوارڈ کا تعلق ہے تو یہ بہترین فکشن پر دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کے وصول کرنے والوں کے بہترین کاموں کو سینما کی فلموں کے لیے استعمال کیاجائے گا۔

بن بخیت نے طویل مختصر کہانیوں کے مجموعوں کے علاوہ بہت سی داستانی کتابیں لکھیں، جن میں ناول شارع العطایف، ناول تابو النبیل اور ناول الدحو بہت مشہور ہوئے۔ان کے علاوہ انہوں نے طویل کہانیاں بھی لکھیں جن میں "لا یوسوانا فی البیت "۔ اور "مذاکرات منسیہ" شامل ہیں۔

30 سال سے زائد عرصے سے سعودی مصنف نے متعدد اخبارات میں روزانہ مضامین پیش کیے جن میں انھوں نے عوامی اور ثقافتی امور پر تنقیدی گفتگو کی۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کے بہت سےپروگرامات کے لیے بھی تحریری مواد فراہم کیا۔

ٹی وی کے لیے ان کی سیریز جو پانچ قسطوں میں تیار کی گئی تھی’ هوامير الصحراء‘ فلم تھی۔ اس کےعلاوہ فلم’جرذان الصحراء‘، طاش ما طاش، يا وطني جیسی فلمیں لکھیں جنہیں سعودی ٹیلیوویژن اسکرین پر نشر کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں