آسٹریلیا نے لبنان میں موجود اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔ آسٹریلیا نے کہا، اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی سنگین حد تک بڑھ سکتی ہے۔
آسٹریلیا کی یہ درخواست اس ہفتے دیگر اتحادیوں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے ایسی ہی ہدایت کے بعد کی گئی ہے۔
وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا، "جانے کا یہی وقت ہے، سکیورٹی کی صورتِ حال بہت کم یا بغیر کسی نوٹس کے تیزی سے خراب ہو سکتی ہے۔"
وونگ نے کہا، اگر صورتِ حال مزید خراب ہوتی ہے تو بیروت ہوائی اڈہ "طویل مدت" کے لیے مکمل طور پر بند ہو سکتا ہے جس سے روانگی کے خواہش مند لوگ ممکنہ طور پر پھنس سکتے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلوی باشندوں پر سفر کے لیے تجارتی پروازیں استعمال کرنے پر زور دیا۔
شرقِ اوسط کے حالات کئی مہینوں سے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے کشیدہ ہیں جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک چکے ہیں اور انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔
آسٹریلوی امورِ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق لبنان میں تقریباً 15,000 آسٹریلوی باشندے رہائش پذیر ہیں جن کی تعداد جون سے ستمبر کی گرمیوں کے دوران ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ 2021 کی مردم شماری میں تقریباً نصف ملین آسٹریلوی باشندوں کے لبنانی حسب و نسب کی اطلاع ملی۔