کال اور ویڈیو، الاخوان کی طرف سے خالد مشعل کو ہنیہ کی جانشینی دینے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

برطانوی دارالحکومت لندن میں الاخوان اور بین الاقوامی تنظیم کے رہنماؤں اور حماس کے ایک رہنما کے کے درمیان ایک ویڈیو اور فون کال سے انکشاف ہوا ہے کہ گروپ کے رہنماؤں کے درمیان ایک اجلاس منعقد کیا گیا ہے جس میں اسماعیل ہنیہ کی جانشینی خالد مشعل کو دینے کی بات کی گئی ہے۔ اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران میں قتل کردیا گیا تھا۔

ویڈیو جس میں ڈاکٹر صلاح عبدالحق، جو جماعت کے مرشد کے طور پر کام کرتے نظر آتے ہیں، نے بین الاقوامی تنظیم کے رہنماؤں اور گلوبل گائیڈنس آفس کے اراکین کے اجلاس کا انکشاف کیا۔ اس میں عبدالحق اور ان کے ساتھی فون پر حماس کے لیڈر خالد مشعل سے تعزیت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بولو تمہارے بھائی موجود ہیں اور وہ تمہاری بات سن رہے ہیں۔

اسماعیل ھنیہ
اسماعیل ھنیہ

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ کے باخبر ذرائع کے مطابق گروپ کے رہنما خالد مشعل کو نئے انتخابات کے انعقاد تک عارضی مدت کے لیے تحریک حماس کا سربراہ مقرر کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

ہنیہ کی جانشینی پر حماس کے اندر اختلاف

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب عالمی تنظیم اور گروپ نے اپنے رہنما ڈاکٹر حلمی الجزار کو ہنیہ کی شہادت کی تعزیت کرنے اور مشعل سے بات کرنے کے لیے قطر بھیجا تھا۔ جبکہ ہنیہ کے جانشین کے انتخاب کے لیے تحریک حماس کے اندر اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ حماس نے ہفتہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے کہا کہ اس نے حماس کے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے اپنی قیادت اور شوریٰ کے اداروں میں وسیع مشاورتی عمل شروع کر دیا ہے۔

خالد مشعل
خالد مشعل

العربیہ اور الحدیث ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حماس نے ہنیہ کے جانشین کے انتخاب کے لیے قطر میں مشاورت کی ہے۔ غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار نے تحریک کے سابق رہنما خالد مشعل، جو 1997 میں اردن میں ایک اسرائیلی قاتلانہ حملے میں بچ گئے تھے اور اس وقت قطر میں مقیم ہیں، کو حماس کی قیادت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یحیییٰ سنوار سیاسی بیورو کے رکن خلیل الحیہ کو ہنیہ کی جگہ پر ترجیح دیتے ہیں۔

ایران اور شام کے ساتھ اچھے تعلقات

ذرائع نے بتایا کہ ہنیہ کی جگہ یحییٰ سنوار ایران اور شام کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والے شخص کو ترجیح دیتے ہیں۔ مصری نیشنل سیکیورٹی سروس میں الاخوان کی سرگرمیوں سے تعلق رکھنے والے سابق عہدیدار میجر جنرل عادل عزب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ کو پچھلے بیانات میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ الاخوان کے دو بیانات میں ہنیہ کی تعزیت کے لیے تین پیغامات اہم ہیں۔ الاخوان المسلمون کا پہلا واضح مطالبہ ہے کہ حماس اپنے آپ کو ایران کی باہوں میں پھینکنے کے بجائے بین الاقوامی تنظیم کی طرف لوٹ آئے۔ دوسرا پیغام یہ ہے کہ ایران میں غدار موجود ہیں۔ ہنیہ اور تحریک کے عہدیداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی سے یہ ثابت ہو رہا ہے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ حماس الاخوان المسلمون سے تعلق کی تصدیق کرے۔ حالانکہ ہنیہ نے 2015 میں اعلان کیا تھا کہ تحریک حماس بین الاقوامی تنظیم الاخوان المسلمون سے منسلک نہیں ہے۔

میجر جنرل عادل عزب
میجر جنرل عادل عزب

میجر جنرل عادل عزب نے کہا کہ وہ آنے والے دور میں ایران کے کردار میں کمی اور خطے میں بعض سیاسی اسلام کی بات کرنے والی تنظیموں سے اس کی علیحدگی کی توقع رکھ رہے ہیں۔ غزہ کی صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوشش میں ایران کی جگہ اخوان المسلمون کے ونگ لیتا دیکھ رہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ قاتلانہ حملے کی پالیسی حماس کو اخوان کے رجحان والے سیاسی رہنماؤں کے انتخاب پر مجبور کر سکتی ہے۔ یہ معاملہ آگے بڑھے گا اور بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے حماس کے اندر سے ایران نواز رہنماؤں کے ہٹانے کی مقصد کی طرف جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھی زور دینا ضروری ہے کہ تحریک حماس کا بنیادی حصہ ایک تنظیم کے طور پر نظریاتی طور پر الاخوان کی بین الاقوامی تنظیم کے بینر تلے کام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ مصری سکیورٹی عہدیدار نے واضح کیا کہ فلسطین میں الاخوان کی شاخ تحریک حماس کی نمائندگی میں ہے۔ فلسطین میں الاخوان کی شاخ 1930 کی دہائی سے قائم ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں