پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے پاس نئے طاقتور میزائل ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کو کہا کہ اس کی بحریہ کے پاس طاقتور دھماکہ خیز جنگی مواد سے آراستہ نئے کروز میزائل ہیں جو ریڈار پر ظاہر نہیں ہوتے۔

ملک کی طاقتور ترین سکیورٹی تنظیم کا یہ اعلان اتفاقاً شرقِ اوسط میں مکمل جنگ کے خدشے کے ساتھ سامنے آیا ہے جب ایران نے 31 جولائی کو تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

سپاہ کے اعلیٰ کمانڈر میجر جنرل حسین سلامہ نے کہا، "آج کی دنیا میں آپ کو زندہ رہنے کے لیے یا تو طاقتور بننا ہوگا یا آپ ہتھیار ڈال دیں۔ کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔"

سپاہ کے ایک بیان میں کہا گیا، "سپاہ کے بحری بیڑے میں بڑی تعداد میں کروز میزائل شامل کیے گئے ہیں۔ ان نئے میزائلوں میں انتہائی دھماکہ خیز جنگی مواد کی صلاحیت ہے جو ریڈار سے چھپے رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بڑے پیمانے پر نقصان اور اپنے اہداف کو تباہ کر سکتے ہیں۔"

بحریہ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا، بحری بیڑے میں مختلف قسم کے طویل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کے ساتھ ساتھ جاسوس ڈرون اور بحری ریڈار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

نیز کہا گیا، "یہ سسٹم گارڈز کی بحریہ میں جدید ترین اینٹی سرفیس اور سب سرفیس ہتھیاروں میں سے ہیں۔"

سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعہ کو کئی ہتھیار دکھائے۔ بحریہ نے مزید کہا کہ 2,654 سسٹمز میں سے صرف 210 دکھائے گئے کیونکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دیگر تزویراتی نظام کا انکشاف ممکن نہ تھا۔

ایران کے پاس شرقِ اوسط کے سب سے بڑے میزائل پروگراموں میں سے ایک ہے جو جنگ کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک اہم انسدادی اور انتقامی قوت ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی دفتر برائے قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے مطابق ایران خطے میں سب سے زیادہ بیلسٹک میزائلوں سے آراستہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں