مئی کے وسط میں لبنانی حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنے سب سے گہرے حملوں میں سے ایک کا آغاز کیا۔ حزب اللہ نے ایک دھماکہ خیز ڈرون کا استعمال کیا جس نے اسرائیل کے سب سے اہم فضائی نگرانی کے نظام پر بمباری کی۔
اس اور دوسرے کامیاب ڈرون حملوں نے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کو اسرائیل کے خلاف متوقع جوابی کارروائی کے لیے ایک اضافی مہلک آپشن دیا ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ ماہ بیروت پر ایک فضائی حملہ کیا تھا جس میں حزب اللہ کے سینئر فوجی کمانڈر فواد شکر جاں بحق ہوگئے تھے۔
اسرائیل نے حزب اللہ کے میزائل ہتھیاروں سے تحفظ کے لیے آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ سمیت فضائی دفاعی نظام بنائے ہیں لیکن اس کی توجہ ڈرون کے خطرے پر کم رہی ہے۔
سنگین خطرہ
اس تناظر میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے ایک محقق فیبیان ہینز نے بتایا کہ اللہ سے تعلق رکھنے والے ڈرونز ایک خطرہ ہیں جس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تل ابیب نے ان ڈرونز کے خلاف دفاعی صلاحیت پیدا کرنے کی کم کوشش کی ہے۔ ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے وضاحت کی ہے کہ جب اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ کے دوران لبنان سے لانچ کیے گئے سینکڑوں ڈرونز کو روکا تو فضائی دفاعی نظام میں خلا اور کمزور پوائنٹس ثابت ہوئے کیونکہ ڈرونز راکٹوں اور میزائلوں کے مقابلے میں سست ہیں۔ اس لیے انہیں روکنا بھی مشکل ہے۔
یہ بات خاص طور پر اس وقت درست ہوتی ہے جب ڈرون سرحد کے قریب کسی مقام سے لانچ کیا جاتا ہے کیونکہ مداخلت کے لیے ردعمل کے لیے کم وقت ہوتا ہے۔
اہلکار، جسے اسرائیلی سکیورٹی پابندیوں کے مطابق عوامی طور پر بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے اس جنگ کے دوران پہلے سے کہیں زیادہ ڈرونز سے نمٹنے کی صلاحیت دکھائی اور لانچ پوائنٹس پر حملہ کر کے جواب دیا ہے۔
اپنی طرف سے ایرانی سیاسی تجزیہ کار اور سیاسیات کے پروفیسر عماد ابشیناس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ لبنان کے مختلف علاقوں میں میزائل داغ سکتی ہے لیکن حزب اللہ کے پاس اب ایسے ڈرون اور میزائل ہیں جو اسرائیل کے کسی بھی علاقے تک پہنچ سکتے ہیں۔ جب کہ ایک طرف واشنگٹن اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کو مسلح کر رہا ہے تو دوسری طرف ایران حزب اللہ جیسے گروپوں کو مسلح کر کے ایسا ہی کر رہا ہے۔
ڈرونز کی طاقت یہ ہے کہ انہیں دور سے چلایا جا سکتا ہے۔ اس لیے وہ دشمن کے علاقے میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ان کی نگرانی کر سکتے ہیں اور روایتی راکٹوں اور میزائلوں سے زیادہ ہوشیاری سے حملہ کر سکتے ہیں۔
دفاعی نظام سے بچنے کی صلاحیت
واضح رہے گذشتہ مئی میں حزب اللہ نے اپنے ڈرون حملے کی کامیابی کا اعلان کیا تھا جس میں لبنان کی سرحد سے 35 کلومیٹر دور ایک اڈے پر اسرائیلی میزائل ڈیفنس سسٹم کے حصے کے طور پر استعمال ہونے والے غبارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
پارٹی نے فوٹیج بھی شائع کی تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ یہ ایک دھماکہ خیز ابابیل ڈرون تھا جو سکائی ڈوو غبارے کی طرف اڑ رہا تھا۔ بعد میں اس نے گرائے گئے طیارے کی تصاویر شائع کیں۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ اس طیارے کو براہ راست نشانہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔
تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ ایک آزاد تحقیقی مرکز انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی سٹڈیز کا خیال ہے کہ یہ حملہ بہتر درستی اور اسرائیلی فضائی دفاع سے بچنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
دریں اثنا ایرانی حمایت یافتہ گروپ کی طرف سے کیے گئے سب سے طاقتور ڈرون حملوں میں سے ایک اپریل میں کیا گیا جس میں شمالی اسرائیل میں 4 شہریوں کے علاوہ ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوئے۔