اسرائیلی وزیر بن گویر اور دو ہزار سے زیادہ یہودیوں کا مسجد اقصیٰ کے صحن پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

دو ہزار سے زیادہ انتہا پسند یہودیوں نے منگل کو مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی پر دھاوا بول دیا۔ انتہا پسندوں کی قیادت اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتما بن گویر نے کی۔ شدت پسندوں نے یہودیوں کی سالگرہ کے حوالے سے اپنی عبادت ادا کی۔ محکمہ اسلامی اوقاف کے عہدیدار نے بتایا کہ دھاوا بولنے والے انتہا پسند اشتعال انگیز سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔

اس موقع پر بن گویر نے کہا کہ اسرائیل حماس کو شکست دے گا۔ انہوں نے اپنی حکومت سے ثالث ملکوں کی طرف سے دوحہ میں طلب کیے گئے کسی بھی مذاکرات میں نہ جانے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے مسجد اقصیٰ اسرائیل فلسطین تنازع کا مرکزی نکتہ ہے۔ اسرائیلی فورسز اس جگہ کے داخلی راستوں کو کنٹرول کرتی ہیں تاہم مسجد اقصی کا انتظام اردنی اسلامی اوقاف کے محکمہ کے پاس ہے۔

1967 میں مشرقی القدس پر اسرائیل کے قبضے کے بعد سے نماز کے اوقات کے علاوہ کے مخصوص اوقات میں غیر مسلم مسجد اقصیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں۔ تاہم الٹرا آرتھوڈوکس یہودی تیزی سے اس اصول کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ لسطینی اور اردنی وزارت اوقاف قوم پرست یہودیوں کے مسجد اقصیٰ پر اس طرح چڑھائی کرنے کو مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کا باعث قرار دیتے ہیں۔

عبرانی کیلنڈر کے تحت "ہیکل کی تباہی کی یاد نو اگست کو منائی جاتی ہے۔ اس دن یہودی ہیکل سلیمانی کی تباہی کا سوگ مناتے ہیں۔ یہودی اس دن سوگ میں روزہ رکھتے ہیں۔ مشرقی الدس میں محکمہ اسلامی اوقاف کے ایک اہلکار نے کہا کہ 2,250 انتہا پسند یہودیوں نے اشتعال انگیز دعائیں اور رقص کیا اور اپنے دھاوں کے دوران اسرائیلی پرچم بلند کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر بین گویر نے قومی سلامتی کے وزیر کی حیثیت سے یہودیوں کی کارروائیوں کی نگرانی کی اور بین الاقوامی معاہدوں کو برقرار رکھنے کے بجائے مسجد اقصیٰ کے اندر حقیقت کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اوقاب کے اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دی اور کہا اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ مسلمانوں کو صرف تھوڑی تعداد میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔ محکمہ اوقاف کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو کلپس اور تصاویر میں اسرائیلی وزیر بن گویر کو مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔

ایکس پر جاری ایک ویڈیو کلپ میں بن گویر فتح کا وعدہ کر رہے ہیں۔ بن گویر نے کہا ہمیں یہ جنگ جیتنی چاہیے۔ ہمیں فتح حاصل کرنی چاہیے اور دوحہ یا قاہرہ میں 15 اگست کو ہونے والی بات چیت میں نہیں جانا چاہیے۔ ہمیں حماس کو شکست دینا اور اسے گھٹنوں کے بل لانا چاہیے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے مسجد اقصیٰ پر حملے کے واقعے کے حوالے سے جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ آج صبح جو کچھ ہوا وہ طے شدہ صورتحال سے مستثنیٰ ہے۔

یاد رہے غزہ میں جنگ سات اکتوبر سے اسرائیلی بربریت جاری ہے۔ سات اکتوبر کو حماس نےغیر معمولی طور پر اسرائیل پر حملہ کرکے 1198 اسرائیلیوں کو ہلاک اور 251 کو یر غمال بنالیا تھا۔ ان یرغمالیوں میں سے 111 اب بھی حماس کی زیر حراست ہیں اور ان میں سے بھی 39 ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے تین سو سے زیادہ دنوں سے غزہ پر جارحیت جاری ہے۔ اسرائیلی فورسز کی بمباری اور گولہ باری میں 39897 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں