اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہفتے کے شروع میں غزہ کی ایک سرنگ سے بازیاب کرائے گئے چھے مغویوں کی لاشیں گولیوں سے چھلنی تھیں۔
فوج کے مطابق یاگیو بوششتاب، الیگزینڈر ڈینسیگ، یورم میٹزگر، نداو پوپل ویل، چیم پیری اور ابراہم موندر کی لاشیں پیر کی رات جنوبی غزہ کی پٹی سے ملیں حالانکہ یہ واضح نہیں تھا کہ ان کی دوران قید موت کی وجہ کیا تھی؟
ایک فوجی ترجمان نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی فوج کے چھاپے کے مقام سے قبضے میں لی گئی "چھے یرغمالیوں کی لاشوں کا معائنہ کیا گیا جو گولیوں سے چھلنی تھیں۔"
ترجمان نے مزید کہا، "ان کی موت کن حالات میں ہوئی اس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔"
ہلاک شدہ چھے یرغمالی ان 251 افراد میں شامل تھے جنہیں سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے دوران یرغمال بنایا گیا تھا۔
فوجی ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے منگل کو کہا، چھے افراد "اس وقت مارے گئے جب اسرائیلی فوج خان یونس میں کارروائی کر رہی تھیں۔"
قید میں ہلاک ہونے والے متعدد یرغمالیوں کے رشتہ داروں نے کہا ہے کہ فوج نے انہیں مطلع کیا تھا کہ ہو سکتا ہے ان کے عزیز غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور بمباری میں ہلاک ہو گئے ہوں۔